خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 66

خطبات طاہر جلد ۱۲ 66 خطبه جمعه ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ء ہوئی قیادت ہے جس میں کچھ بھی فیض نہیں ہے۔ہمیشہ جب ابتلاؤں کے وقت آئے جب مسلمانوں پر مصیبتیں پڑیں مظالم ٹوٹے تو ان ظالموں نے اپنی نا کبھی کے نتیجہ میں غلط نعروں کے ساتھ مسلمان عوام کو اور زیادہ ظلموں کی آگ میں جھونکا ہے اس وقت کشمیر میں کیا ہورہا ہے؟، اس وقت ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے؟، اس وقت بوسنیا میں کیا ہو رہا ہے؟، اس وقت برما میں کیا ہو رہا ہے؟، بغداد پر جو قیامت ٹوٹی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ایک دکھ ہو تو کہوں، ایک ستم ہو تو سہوں ،کس کس دکھ کی باتیں کروں۔سارا عالم اسلام اس وقت دکھوں میں مبتلا ہے مگر اس بد نصیب دائیں بازو کی قیادت کو کوئی ہوش نہیں ہے کوئی عقل نہیں ہے۔ان کو پتا ہی نہیں کہ عالم اسلام کا امن محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت میں ہے،آپ کی سیرت میں ہے۔خیالی فرضی عشق کی باتوں میں کوئی امن نہیں ہے یہ سب جھوٹے قصے ہیں جس نام کی عزت کا ذکر کرتے ہوئے تم دلوں کو کھولاتے ہو اور آگئیں لگا دیتے ہو۔ان آگوں میں جلتا کون ہے؟ پھر آخر بیچارے مسلمان ہی ان آگوں میں جلتے ہیں، بار ہا تم یہ ظلم کر بیٹھے ہو۔آج تک تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں۔کس طرح تمہیں سمجھاؤں کس طرح وہ علاج کروں جس سے تمہاری آنکھوں میں دیکھنے کی استطاعت ہو۔ایک نسخہ کو بار بار استعمال کرتے ہو اور ہر بار اس کے زہریلے اثرات میں مسلمانوں کو مٹتے ہوئے اور مرتے ہوئے دیکھتے ہو اور پھر وہی حرکتیں۔انتقام کی آگ کی آواز اٹھانے سے اور انتقام کے شعلے بھڑ کانے سے عالم اسلام کا ہرگز کچھ نہیں بنے گا کیونکہ آج مسلمان کمزور ہے۔اگر کمزور نہ ہوتے تو غیروں کو اس طرح بڑھ چڑھ کر کھلے بندوں بلا خوف وخطر عالم اسلام کو مظالم کا نشانہ بنانے کی توفیق نہیں مل سکتی تھی ، جرات نہیں ہو سکتی تھی۔وہ جانتے ہیں کہ یہ کمزور ہیں ان کے پاس کچھ بھی نہیں صرف باتیں ہیں، آپس میں دل پھٹے ہوئے ہیں ، اپنے مفادات کے مارے ہوئے ہیں اور فرضی باتوں میں اپنی جنت بنائے بیٹھے ہیں ایسی قوم پر غیر کیوں حملے نہیں کرے گا۔دوسری طرف وہ سیادت ہے جسے سیاسی قیادت کہا جاتا ہے وہ بھی انتہائی بدنصیب ہے۔وہی بات ان پر صادق آتی ہے جو پیر پگاڑا صاحب نے فرمائی تھی کہ باتیں مشرق کی کرتے ہیں اور سجدے مغرب کو کرتے ہیں۔واقعہ مغرب کو سجدہ کر رہے ہیں اور شاید ہی کوئی ہو جو مستثنی ہو۔ورنہ صلى الله تمام عالم اسلام اس وقت مغرب کے سامنے سجدہ ریز ہو چکا ہے اور باتیں محمد رسول اللہ ﷺ کی