خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 694 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 694

خطبات طاہر جلد ۱۲ 694 خطبه جمعه ۱۰ستمبر ۱۹۹۳ء اسلام اس خدائے واحد کو پیش کرتا ہے جو وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوا کرتا۔اس کی صفات ہمیشہ سے اسی طرح آج بھی جلوہ گر ہیں جیسے قدیم میں کبھی جلوہ گر ہوئی تھیں اور تمام صفات زندہ ہیں اور ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ رہیں گی۔۔۔“ پس وہ لوگ جو خدا کو ماضی کا حصہ بنا بیٹھے ہیں وہ یہ یقین کرتے ہیں کہ خدا اب نہیں بولتا ے پہلے بولا کرتا تھا ، خدا اب بندوں سے ہم کلام نہیں ہوتا اور بندوں پر اس طرح ظاہر نہیں ہوتا جیسے پہلوں پر ظاہر ہوا کرتا تھا۔عملاً وہ خدا کو زمانے میں تقسیم کر دیتے ہیں کہ ایک گزشتہ زمانوں کا خدا ہے جو اور طرح کی صفات دکھاتا ہے، ایک موجودہ زمانے کا خدا ہے جو اور طرح کی صفات دکھاتا ہے۔پس وہ خدا جو وقت میں تقسیم ہو جائے وہ واحد خدا نہیں رہ سکتا، وہ دوحصوں میں زمانے کے لحاظ سے بٹا ہوا خدا بن جاتا ہے۔اب دیکھیں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بیٹا بنانے کا تصور عہد نامہ جدید میں تو نہیں لیکن عہد نامہ جدید کے بعد جلد ظہور میں آیا اور بنا اس عقیدے کی اس بات پر ہے کہ خدا کا یہ بیٹا ازل سے ہے لیکن ازل سے اس کی شان جلوہ گر نہیں ہوئی تھی تو اس لحاظ سے بھی عیسائیت نے وہ بظاہر تو حید کا دعویٰ کیا لیکن عملاً تو حید زمانی سے انکار کر دیا۔ان کے نزدیک خدا کا بیٹا ایک ایسے وقت میں ظاہر ہوا ہے کہ جب اس سے پہلے دنیا کے تمام مذاہب اس کے وجود سے بے خبر تھے اور گویا صفات الہی اگر موجود بھی تھیں تو دنیا ان سے کلیہ بے خبر تھی اور پہلے زمانوں کے تمام انسان خدائے واحد کی اس صفت سے نا آشنا ر ہے اور بے فیض رہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس واحد خدا کا تصور اسلام کی طرف منسوب فرما رہے ہیں وہ ایسا خدا ہے جو زمانے میں کسی پہلو سے تقسیم نہیں ہو سکتا اور صلى الله دوسرا پہلو اس اقتباس میں یہ بیان فرمایا کہ دیکھو حضرت محمد مصطفی امت ہو نے وہ خدا ماننے کے لئے پیش کیا جس کو قانون قدرت پیش کر رہا ہے اور قانون قدرت کا اطلاق بھی اسلام کے ہر پہلو پر یکساں ہوتا ہے۔کوئی ایک گوشہ بھی اسلام کا ایسا نہیں جس کو ماننے سے قانون قدرت کے کسی پہلو سے ٹکراؤ ہوتا ہو۔اس پہلو سے بھی جب آپ تثلیث کے عقیدے کو دیکھتے ہیں تو تثلیث کا عقیدہ قانون قدرت سے کھلم کھلا ٹکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔پس زبانی توحید کا دعویٰ اور بات ہے حقیقت میں تو حید کو جاری