خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 693 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 693

خطبات طاہر جلد ۱۲ 693 خطبه جمعه ۱۰ستمبر ۱۹۹۳ء وو۔۔۔وہ خدا ماننے کے لئے پیش کیا جس کو قانون قدرت پیش کر رہا ہے۔زہد و تقوی اور عبادت اور محبت الہی کی نصیحت کی اور ہزار ہا آسمانی نشان دکھلائے جواب تک ظہور میں آرہے ہیں۔۔۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۴) توحید کے نتیجے میں انسان خدا نما بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے موحد بندوں کے لئے نشان دکھلاتا ہے۔یہ دوسری علامت ہے جو نمایاں طور پر موحد کی ذات میں ثابت ہوتی ہے۔موحد کی ذات میں چمکتی ہے اور دنیا کو دکھائی دینے لگتی ہے۔اگر چہ موحد ریا کاری سے کام نہیں لیتا لیکن جس خدا کو دکھاتا ہے جب اس کا جلوہ موحد کی ذات میں دکھائی دینے لگتا ہے اسی کا نام اعجاز ہے اور اسی کا نام نشان ہے۔یعنی موحد کی ذات میں خدا جلوہ گر ہو جاتا ہے ہمو حدخدا نما وجود بن جاتا ہے اور اسی کا نام معجزہ ہے اس کے سوا معجزے کی کوئی حقیقت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تو حید کے معجزے کے طور پر آپ کی زندگی کے نشان ہی پیش نہیں فرمائے بلکہ یہ فرمارہے ہیں کہ آپ کے وصال کے بعد آج تک آپ کی تو حید اسی طرح جلوہ گر ہے اور آج بھی اس توحید کے اعجاز ہم دیکھ رہے ہیں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود بھی حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کی توحید ہی کی جلوہ گری ہے اور اسی کے نتیجے میں آپ کا روحانی وجود پیدا ہوا ہے۔پھر فرماتے ہیں: " وہ خدا ماننے کے لئے پیش کیا جس کو قانون قدرت پیش کر رہا ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی تو حید کو رائج الوقت دیگر مذاہب کی تو حید کے مقابل پر سب سے نمایاں اور سب سے آشان کی توحید کے طور پر پیش فرمایا۔ہوسکتا ہے دوسرے مذاہب کے پیروکار یہ خیال کریں کہ محض لاف زنی ہے ایک بڑا دعویٰ ہے۔ہر مذہب کے ماننے والے یہی کہا کرتے ہیں کہ جو تو حید ہم نے پیش کی ہے ویسی کہیں اور پیش نہیں کی گئی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس توحید کی ارفع شان کو ظاہر کرنے کے لئے دو ایسی قطعی دلیلیں پیش کی ہیں جن کو کوئی دوسرے مذہب کا پیروکار اپنے مذہب میں اس طرح دکھا نہیں سکتا۔ایک جگہ فرمایا: