خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد ۱۲ 693 خطبه جمعه ۱۰ استمبر ۱۹۹۳ء ”۔۔۔ وہ خدا ماننے کے لئے پیش کیا جس کو قانون قدرت پیش کر رہا ہے۔ زہد و تقوی اور عبادت اور محبت الہی کی نصیحت کی اور ہزار ہا آسمانی نشان دکھلائے جواب تک ظہور میں آ رہے ہیں ۔۔۔“ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۵۴) توحید کے نتیجے میں انسان خدا نما بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے موحد بندوں کے لئے نشان دکھلاتا ہے۔ یہ دوسری علامت ہے جو نمایاں طور پر موحد کی ذات میں ثابت ہوتی ہے۔ موحد کی ذات میں چمکتی ہے اور دنیا کو دکھائی دینے لگتی ہے۔ اگرچہ موحد ریا کاری سے کام نہیں لیتا لیکن جس خدا کو دکھاتا ہے جب اس کا جلوہ موحد کی ذات میں دکھائی دینے لگتا ہے اسی کا نام اعجاز ہے اور اسی کا نام نشان ہے۔ یعنی موحد کی ذات میں خدا جلوہ گر ہو جاتا ہے، موحد خدا نما وجود بن جاتا ہے اور اسی کا نام معجزہ ہے اس کے سوا معجزے کی کوئی حقیقت نہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی توحید کے معجزے کے طور پر آپ کی زندگی کے نشان ہی پیش نہیں فرمائے بلکہ یہ فرمارہے ہیں کہ آپ کے وصال کے بعد آج تک آپ کی توحید اسی طرح جلوہ گر ہے اور آج بھی اس توحید کے اعجاز ہم دیکھ رہے ہیں۔ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی توحید ہی کی جلوہ گری ہے اور اسی کے نتیجے میں آپ کا روحانی وجود پیدا ہوا صلى الله عروسه ہے۔ پھر فرماتے ہیں: ” وہ خدا ماننے کے لئے پیش کیا جس کو قانون قدرت پیش کر رہا ہے۔“ 66 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی توحید کو رائج الوقت دیگر مذاہب کی توحید کے مقابل پر سب سے نمایاں اور سب سے آسان کی توحید کے طور پر پیش فرمایا۔ ہو سکتا ہے دوسرے مذاہب کے پیروکار یہ خیال کریں کہ محض لاف زنی ہے ایک بڑا دعویٰ ہے۔ ہر مذہب کے ماننے والے یہی کہا کرتے ہیں کہ جو توحید ہم نے پیش کی ہے ویسی کہیں اور پیش نہیں کی گئی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس توحید کی ارفع شان کو ظاہر کرنے کے لئے دوائیسی قطعی دلیلیں پیش کی ہیں جن کو کوئی دوسرے مذہب کا پیروکار اپنے مذہب میں اس طرح دکھا نہیں سکتا۔ ایک جگہ فرمایا: