خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 688 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 688

خطبات طاہر جلد ۱۲ 688 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۹۳ء وقتوں کو پھیرتا اور دن سے رات اور رات سے دن نکالتا ہے۔وہ تاریکی بھی پیدا کرتا ہے مگر چاہتا روشنی کو ہے۔وہ شرک کو بھی پھیلنے دیتا ہے مگر پیار اس کا توحید سے ہی ہے اور نہیں چاہتا اس کا جلال دوسرے کو دیا جائے۔جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے اس وقت تک کہ نابود ہو جائے۔خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ توحید کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔جتنے نبی اس نے بھیجے سب اسی لئے آئے تھے کہ تا انسانوں اور دوسری مخلوقوں کی پرستش دور کر کے خدا کی پرستش دنیا میں قائم کریں اور ان کی خدمت یہی تھی کہ لا الہ الا اللہ کا مضمون زمین پر چمکے جیسا کہ وہ آسمان پر چمکتا ہے۔ان سب میں سے بڑا وہ ہے جس نے اس مضمون کو بہت چمکایا مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۵) یعنی ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی امی۔اس اقتباس میں ایک امر خاص طور پر آپ کے ذہن نشین ہونے کے لائق ہے کہ تمام انبیاء نے توحید کی حمایت کی اور اس حمایت کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی کامل حمایت ان کو نصیب ہوئی۔پس اگر آپ خدا کی حمایت چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ توحید کی حمایت پر مستعد ہو جائیں۔یہی ایک طریق ہے جس سے خدا تعالی کی تائید و نصرت اور حمایت آپ کے حق میں قطعی ہو جائے گی۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی تو حید کا رنگ پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: در محضرت یہ اعلی درجہ کے یکرنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جانباز اور سب خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیر نے والے اور محض خدا پر تو کل کرنے والے۔۔۔“ یہ وہ تو حید کا رنگ ہے جو اپنائے بغیر انسان حقیقت میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہو نہیں سکتا۔وہ تو حید جو فرضی طور پر آسمانوں میں بس رہی ہو یا آپ کے خیالوں کی دنیا میں رہے لیکن آپ کی نیتوں کی گہرائی میں نہ اتر سکے۔آپ کے اعمال میں داخل نہ ہو اور آپ کے رگ و پے میں سرائت نہ کر جائے۔وہ تو حید محض ایک کھوکھلی تو حید ہے، اس کا حقیقت میں خدا کی واحدانیت سے کوئی تعلق نہیں۔توحید کے نتیجے میں انسان کے دل پر جو نقش جمتے ہیں، اس کی فطرت جو رنگ اختیار کرتی