خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 64
خطبات طاہر جلد ۱۲ 64 خطبہ جمعہ ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء سر تو ڑتا ہے ورنہ یہ دنیا رہنے کے لائق نہ رہے، یہ سارے سمندر ایسے کڑوے ہو جائیں کہ ان میں زندگی کی کوئی صورت بھی پنپناممکن نہ رہے۔پس یہ تقدیر الہی کی باتیں ہیں وہ ضرور تکبر کے سرتو ڑا کرتا ہے تا کہ اس کے بندے اسی کے بندے بن کر رہیں پیس میں کسی جذبہ انتقام کی رو سے یہ بات نہیں کر رہا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو دائمی سچائی ہے اور جس حقیقت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔بڑی بڑی قو میں پہلے بھی آئی ہیں پہلے بھی ان کے دماغ حقیقت میں تو نہیں مگر اپنے وہم میں اور اپنے خیال میں آسمان سے باتیں کیا کرتے تھے پہلے بھی تو فرعون پیدا ہوئے انہوں نے بھی تو خدائی کے دعوے کئے تھے۔لیکن ذاتی استطاعت یہ تھی کہ ان کے ذہن کی بلندی ایک مینار کی حد تک جاسکی اور یہ حکم دیا کہ ایک اونچا سا مینار بنا دو تا کہ اس پر چڑھ کر میں دیکھوں کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے۔پس ایسے ہی فراعین پہلے بھی پیدا ہوئے اب بھی پیدا ہورہے ہیں، آئندہ بھی شاید ہوں لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں متفرق جگہوں پر بڑے کھلے الفاظ میں ان حالات کا نقشہ کھینچا ہے اور ان فراعین کے تکبر کے پارہ پارہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔پس یہ تعلیاں یہ خوش فہمیاں یہ دنیا کے سامنے اپنی انا کے قصے اپنی بڑائی کے تذکرے یہ سب آنی فانی چند دنوں کی باتیں ہیں۔یہ ضرور لازما آسمان کی پکڑ کے نیچے آئیں گے اور خدا کا کلام ضرور پورا ہوگا لیکن میں مسلمانوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہم انتقام کی خاطر نہیں بنائے گئے اگر ہماری خاطر قوموں کے تکبر توڑے جائیں گے تو محض اس لئے کہ وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی غلامی میں آنے کے لئے پہنی قلبی اور نفسیاتی لحاظ سے تیار ہو جائیں یہ مقصد اعلیٰ ہے جس کا قرآن کریم بڑے کھلے لفظوں میں ذکر فرماتا ہے۔يَوْمَبِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ (ط : ۱۰۹) کہ جب تکبر توڑے جائیں گے زمینیں ہموار کر دی جائیں گی، جب تمام بڑی بڑی طاقتیں ایک چٹیل میدان کی طرح تمہیں دکھائی دیں گی۔اس وقت نفسیاتی لحاظ سے انسان اس لائق ہو گا اس قابل ہو گا کہ محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کر سکے جن میں کوئی کبھی نہیں ہے۔پس اس مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے عالم اسلام کو اپنی کجیاں تو دور کرنی چاہئیں۔جب تک ان کے دلوں میں کجیاں ہیں ان کی سوچیں ٹیڑھی ہیں۔ان کے تفکرات میں ایسے خم ہیں کہ جن کے نتیجہ میں وہ اسلام کی تصویر پیش کرنے کی بجائے اپنی انانیت کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہے