خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 673 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 673

خطبات طاہر جلد ۱۲ 673 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء پیدا کرتا ہے اور استغناء پیدا کرتا ہے۔غیر اللہ سے انسان ان کی بھلائی چاہتے ہوئے بھی بے پرواہ ہو جاتا ہے یعنی جہاں تک ان کی بھلائی کا تعلق ہے، ان کے مفادات کا تعلق ہے انسان ان کے لئے اپنی جان گھلاتا رہتا ہے۔ان کے غم میں خود گھلتا رہتا ہے۔جہاں تک ان کے شر کا تعلق ہے ان سے کلیاً بے نیاز اور بے پرواہ ہو جاتا ہے۔پس بیک وقت تو حید بنی نوع انسان کی گہری ہمدردی بھی پیدا کرتی ہے اور ساتھ ہی ان سے استغناء بھی عطا کرتی ہے کیونکہ تو کل کے نتیجے میں یہ استغناء نصیب ہونا ایک لا زم بات ہے۔پس فرمایا کہ وہ جولوگوں کو خلاف بناتے چلے گئے توحید کی خاطر۔یہ بتاتا ہے کہ آپ کا خدا صرف ایک ہی تھا۔دنیا کی کسی طاقت پر آپ کا کوئی انحصار نہیں تھا ورنہ کسی کو تو اپنارہنے دیتے ، کسی کو تو دوست بنا کر چلتے۔سب کو ایسی باتیں کہیں توحید کی خاطر ، جوان کو کسی نہ کسی پہلو سے بری لگتی تھیں۔پس ہر ایک کو اپنا دشمن بنالینا تو حید کے لئے یہ کامل تو کل کی نشاندہی کرتا ہے اور کامل تو حید کے بغیر یہ تو گل نصیب نہیں ہوسکتا۔وو۔۔۔اپنے اور خولیش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا۔یہودیوں سے بھی بات بگاڑ لی کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا۔حضرت مسیح کی تکذیب اور توہین سے منع کیا جس سے ان کا (یعنی ان یہودیوں کا اور مشرکوں کا ) نہایت دل جل گیا اور سخت عداوت پر آمادہ ہو گئے۔۔۔“ حضرت عیسی کی تکذیب سے اس قوت کے ساتھ منع فرمایا ہے اور ایسی تنبیہ اور تو شیخ کی ہے یہود کو کہ اس کے نتیجے میں یہود آپ کے دشمن ہو گئے اور جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے۔۔۔۔اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کر دیا گیا کیونکہ جیسا کہ ان کا وو اعتقاد تھا ( کے موافق ) حضرت عیسی کو نہ خدا نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔۔۔“ اس طرح عیسائیوں کو بھی اپنا دشمن بنالیا۔عیسی کی خاطر یہود کو دشمن بنایا اور توحید کی خاطر عیسائیوں کو دشمن بنا لیا۔پھر فرمایا۔عیسی کی خاطر نہیں کہنا چاہئے حق کی خاطر ، سچائی کی خاطر۔پھر فرماتے ہیں۔