خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 672 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 672

خطبات طاہر جلد ۱۲ 672 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء صلى الله اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔آئے ہیں تو یہاں آئے ہیں اور اس وقت آنحضور ﷺ کا یہ کہنا کہ ابوبکر گھبراتے کیوں ہو۔خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ کامل تو گل کی نشاندہی کرتا ہے اور ایسا تو کل کسی بھاگنے والے کے دل میں پیدا نہیں ہوتا ، ناممکن ہے۔صلى الله پس عظیم گواہی ہے غار ثور کی گواہی ، جو قیامت تک خدا کی توحید پر بھی گواہی دیتی رہے گی اور حضرت محمد مصطفی ہے کے موحد ہونے پر بھی گواہ رہے گی۔آپ کامل توحید کے جذبے سے سرشار تھے۔آپ کی توحید میں کوئی جھول نہیں تھا، کسی قسم کی لغزش نہیں تھی ، لرزش نہیں تھی۔انتہائی خطرے کے وقت تو حید آزمائی گئی اور اسی طرح ثابت قدم رہی۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے جو توحید بنی نوع کو عطا فرمائی ہے آپ کے وجود کا ذرہ ذرہ ، آپ کی زندگی کا لمحہ لحہ اس پر گواہ رہا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔" آج صفحہ دنیا میں وہ شئے کہ جس کا نام توحید ہے بجز امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیت الہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو۔ہر یک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لا زوال اور غیر مبدل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: (براہین احمدیہ حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحه ۱۱۷ تا ۱۱۸) توحید کا وعظ کر کے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا جو اپنے اور خولیش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا۔۔۔“ توحید اور توکل کا مضمون یہ اکٹھا چلتا ہے۔جتنا زیادہ کوئی موحد ہو اتناہی زیادہ متوکل ہوتا چلا جائے گا اور جتنا زیادہ متوکل ہو اتنا ہی انسان بے خوف بھی ہوتا چلا جاتا ہے۔ان چیزوں کا آپس میں ایک لازم و ملزوم کا سا تعلق ہے۔کامل توحید کامل تو کل پیدا کرتی ہے۔کامل تو گل ، کامل بے خوفی