خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 670
خطبات طاہر جلد ۱۲ 670 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کو دکھائی دے رہے تھے۔وہ غار کے دہانے پر کھڑے تھے ان کے پاؤں دکھائی دے رہے تھے اور حضرت ابوبکر بہت سخت گھبرائے مگر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات الله کے لئے پریشان ہوئے کہ خدانخواستہ آپ کو گزند نہ پہنچے کیونکہ ظاہر صورت میں کوئی فرار کی راہ باقی نہ رہی تھی ، نجات کا کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔وہ دشمن اندھا نہیں تھا جس نے اس طرح نشانات کو پہچانتے ہوئے وہاں تک آپ کی پیروی کی۔وہ دشمن پاگل نہیں تھا کہ جو جانتا ہو کہ غار ثور سے باہر نشان کسی اور طرف نہیں جا ر ہے اور یہاں آ کر ختم ہو جاتے ہیں اور پھر یہ سمجھیں کہ یہاں نہیں ہوں گے۔اس وقت حضرت ابو بکر کی گھبراہٹ کو دیکھ کر حضرت نے آپ کو تسلی دی۔( بخاری کتاب تفسیر القرآن حدیث نمبر :۵۳۶۰) قرآن کریم اس واقعہ کو یوں بیان فرماتا ہے: إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْهُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (التوبه (۴۱) إِلَّا تَنْصُرُ وہ اگر تم اس کی مدد نہ بھی کرو تو اس کو کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ جس کا خدا مددگار ہو فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ خدا نے وہ مدد دکھا دی، کس طرح خدا مدد کیا کرتا ہے؟ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا جبکہ اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنہوں نے انکار کیا تھا۔اس آیت میں نکلنے کی ذمہ داری کلیہ کفار مکہ پر رکھی گئی ہے۔آنحضرت ﷺ کی کوئی خواہش نہیں تھی ملکے کو چھوڑ کر جانے کی ، آپ نکالے گئے تھے یعنی وہاں زندگی صرف اجیرن ہی نہیں کی گئی بلکہ جس مقصد کے لئے آپ ﷺ زندہ تھے اس مقصد کی راہ میں ایسی روکیں کھڑی کر دی گئیں کہ وہاں رہنا نہ رہنا برابر ہو گیا۔اس رنگ میں آپ کو مکے سے اہل مکہ نے نکال دیا یعنی جس مقصد کی خاطر آپ کبھیجے گئے تھے اگر وہ مقصد پورانہ ہو تو آپ کی زندگی کے کوئی معنی باقی نہیں رہتے تھے۔پس عملاً آپ کو مجبور کر دیا گیا کہ اس جگہ کو چھوڑ کر ایسی جگہ جائیں جہاں آپ کھلے بندوں پیغام دے سکیں، جہاں پیغام سننے والوں کے دل اس پیغام کی طرف مائل ہوں۔پس خدا کی تقدیر نے آپ کو بتایا کہ یہ وقت آ پہنچا ہے، ملکے سے تمہیں کسی خیر کی توقع نہیں رہی۔اب اس جگہ کو چھوڑ جاؤ۔ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ثَانِيَ اثْنَيْنِ اذْهُمَا فِي الْغَارِ وہ دو میں سے ایک تھا جب وہ غار میں تھے۔اِذْ يَقُولُ لِصَاحِب؟ اس وقت وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا لَا تَحْزَنُ