خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 656
خطبات طاہر جلد ۱۲ 656 خطبه جمعه ۲۷ را گست ۱۹۹۳ء اس لئے عدل بھی ہم سے ہی ملے گا اور رحم بھی ہم سے ملے گا اور تمہیں خوشخبری ہو کہ مجھ سے بڑھ کر اور کوئی رحم کرنے والا نہیں۔پس غیروں کی چوکھٹ سے دامن چھڑا کر ایک بدخبر نہیں دی گئی کہ سارے سہارے کاٹ دیئے گئے بلکہ خوشخبری دی گئی کہ ان سب کے سہارے کاٹ دیئے گئے ہیں جو غیر عادل ہیں۔تمہیں عادل کے دامن سے وابستہ فرما دیا گیا ہے اور وہ مبارک ہو وہ عادل صرف عادل نہیں بلکہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔پس دیکھیں تو حید کا مضمون کس شان کے ساتھ ترقی کرتا ہوا ہمارے فہم کے لحاظ سے ، ہمارے ادراک کے اعتبار سے، یہ مضمون یوں لگتا ہے کہ جیسے ترقی کرتا ہوا اپنی آخری انتہا کو جا پہنچا ہے، پھر فرمایا الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمُ ایسا رحمان نہیں ہے تمہارا خدا جو ایک دفعہ رحم کر کے سب کچھ دے کر تمہیں بھلا دے۔الرَّحِیم ہے۔لازماً دائما تم سے تعلق رکھے گا۔پھر تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔تو اس کے بعد کسی اور خدا کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے۔جب ہر دوسرا معبود جس کو تم معبود بناؤ حالانکہ معبودیت کا حق نہیں رکھتا۔درحقیقت عادل نہیں ہوسکتا اور یہ حقیقت ہے تمام جھوٹے معبود جو بنائے جاتے ہیں۔اگر وہ واقعی وجود ہوں جن کو فرضی خدا بنا دیا گیا ہو تو غیر عادل ہوا کرتے ہیں۔اگر اپنے خاص مریدوں سے انصاف کرتے ہیں تو دوسروں کے انصاف کو قربان کر کے کرتے ہیں۔اس لئے نہ ان کا عدل ، عدل ہے ، نہ ان کا رحم ، رحم ہے۔اب رحمان وہ ہے جو سب کا برابر ہے اور یہ مضمون بھی تو حید ہی کی وجہ سے عطا ہوا ہے کیونکہ رحمان فرما کر یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ خدا رحمان ہے جس کے نزدیک سب برابر ہیں۔اس لئے ایک کا حصہ چھین کر دوسروں کو عطا نہیں کرے گا اور یہ عدل کے تقاضے کے ویسے ہی خلاف ہے۔پس کامل عدل والا خدا رحمانیت کے آخری مقام پر فائز ہے جس سے بڑھ کر رحمانیت کا مقام متصور نہیں ہوسکتا اور زمانی لحاظ سے وہ دائمی رحمت کرنے والا وجود ہے تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گا۔پس یہ توحید کے فوائد ہیں جن کا ان آیات کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے جس طرح اس توحید کو سمجھا اور نافذ فرمایا اس سے پتا چلتا ہے کہ تمام صحابہ صاحب عرفان ہو چکے تھے ورنہ اتنے گہرے توحید کے عرفان کے بغیر وہ قربانیاں پیش نہیں کر سکتے تھے جو تو حید کا رستہ ان سے تقاضے کرتا تھا۔تو حید کا مطلب ہے ہم نے سب دنیا کو چھوڑ کر خدایا تیرا دامن پکڑ لیا ہے اور کامل یقین کے ساتھ تجھے پکڑا ہوا ہے۔جانتے ہوئے کہ تیرے سوا کوئی عدل نہیں ہے، تیرے