خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 642
خطبات طاہر جلد ۱۲ 642 خطبه جمعه ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء یہ خطبات کا سلسلہ بہت ہی لمبا ہو جائے گا۔وہ انشاء اللہ بعد میں کسی موقع پر سیرت کے بیان میں باتیں پیش کی جائیں گی الله میں آپ ﷺ کے حوالے سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے توحید کا پیغام دنیا میں پہنچانا ہے۔یادرکھیں کہ اس راہ میں تکلیفیں دی جائیں گی اور اگر آپ خالص توحید پر قائم ہیں اور سچے دل سے تو حید کا اقرار کرنے والے ہیں تو جس طرح حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے موحد پیدا فرمائے اور عملاً انہوں نے ثابت کر دکھایا کہ توحید کے لئے وہ ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ویسے نمونے آپ کو پکڑنے ہوں گے ورنہ آپ اولین میں کیسے شامل ہوں گے، اولین کے نمونے ہمارے سامنے کھول کر پیش کر دیئے گئے ہیں اور اس نسبت سے ہمیں آخرین میں ویسے ہی نمونے دکھانے ہوں گے، ویسے نمونے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم دکھا رہے ہیں جب میں دکھانے ہوں کہہ رہا ہوں تو آئندہ آنے والی نسلوں کو مستقبل کی یہ تعلیم دے رہا ہوں۔لیکن میں جانتا ہوں کہ اس زمانے میں جتنا تو حید کے لئے جماعت احمدیہ نے قربانیاں دکھائی ہیں۔دنیا کے پردے پر ساری دنیا کی توحید کے لئے قربانیاں ایک طرف کر دیں تو اس کے مقابل پر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس زمانے میں توحید کے نام پر سوائے جماعت احمدیہ کے کسی کو سزا نہیں دی جارہی۔زبانی تو طرح طرح کے ظلم وستم کے چرچے ایسے ایسے گندے بیانات کی صورت میں جماعت احمدیہ کے خلاف جاری ہوتے رہتے ہیں بلکہ مسلسل ایک سلسلہ چلتا چلا جارہا ہے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اس معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں۔جہاں بھی جماعت احمدیہ کے اوپر حملے کا ذکر آئے ، حملے کا مضمون چلے وہاں الا ما شاء اللہ چند شریف النفس لوگوں کے سوا ہر شخص دوسرے کی تائید میں شامل ہو جاتا ہے۔عدلیہ کی طرف جائیں وہاں بھی یہ ظلم بڑی بھیانک صورت میں اپنی انتہاء کو جا پہنچا ہے اور توحید کا ایسا جرم قرار دیا جا رہا ہے کہ جیسے سلمان رشدی نے حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے تقدس اور اسلام کے تقدس پر بہت ظالمانہ اور بہیمانہ حملے کئے تھے۔اس کی مثالیں دے کر یہ کہا جا رہا ہے کہ احمدی کا توحید کا بیان ہمیں ایسا ہی ظلم کی ترغیب دیتا ہے۔جیسا سلمان رشدی کا یہ بیان کہ قرآن کریم شیطان کی نازل کردہ آیتیں تھیں خدا کی نازل کردہ آیتیں نہیں تھیں۔اس سے بڑی بد بختی کسی قوم کی تصور میں ہی نہیں آتی۔ایک طرف سلمان رشدی ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے۔جو محمد رسول اللہ علیہ کے قلب مطہر پر نازل ہوا تھا بلکہ سراسر شیطان کا کلام ہے اور آج کے شر البریہ یہ