خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد ۱۲ 629 خطبه جمعه ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء صدق عند ربھم کہ خدا کی نگاہ میں ان کا قدم سچائی پر پڑ رہا ہے، ان کے رب کی نظر میں ان کا قدم سچائی پر پڑ رہا ہے۔ان دونوں جملوں کا تعلق دراصل تو حید اور اس کے لازمی نتیجے سے ہے۔یہاں ابنائے فارس کو یہ ارشاد فرمایا گیا لیکن ابنائے فارس میں روحانی ابنائے فارس لازماً داخل ہیں کیونکہ ابنائے فارس کا مضمون ہی روحانی تعلق سے شروع ہوتا ہے۔حضرت سلمان فارسی کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے اہل بیت قرار دیا گو کہ ان کی ذات کا ایک روحانی تعلق ہے جسے اہل بیت کے تعلق میں تبدیل کر کے ظاہر فرمایا گیا۔ایک ہی بات ہے جو روحانی طور پر بیٹا بنے ، وہ جسمانی طور پر بھی بیٹا کہلانے کا مستحق بن جاتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعلق بھی روحانی ہی ہے۔اہل فارس میں سے آپ تھے مگر آپ کی اولاد میں سے نہیں کیونکہ حضرت سلمان فارسی کی تو کوئی اولا د نہیں تھی۔تو دو ہر مضمون ہے کہ جہاں ابنائے فارس کا ذکر آئے گا وہاں روحانی اہل بیت لازماً داخل ہوگا۔پس خذوا التوحيد التوحید میں ساری جماعت احمد یہ مخاطب ہے اور تو حید کو اگر آپ مضبوطی سے پکڑلیں تو پھر یہ خوشخبری ہے بشر الذین امنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم ایسے صاحب تو حید ایمان والوں کو یہ خوشخبری دے دو کہ ان کا قدم خدا کی نگاہ میں سچائی پر پڑا اور جس کا قدم خدا کی نگاہ میں سچائی پر قائم ہوا سے دنیا میں کون بہکا سکتا ہے، کون گمراہ کر سکتا ہے؟ پس قیامت تک آپ کی ہدایت پر قائم رہنے کا راز توحید میں ہے۔اس پیغام کے بعد میں پھر اس مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے لیکن مجھے یہ بتایا گیا کہ ایک روایت جو جنگ احد سے تعلق رکھتی ہے جب آپ غار میں پناہ گزیں تھے۔وہ میں نے پوری نہیں پڑھی تھی اور کچھ آخری حصہ باقی رہ گیا تھا۔اس کے بعد دوسری روایت شروع کر دی۔پہلے تو اس کو میں مکمل کرتا ہوں۔آخری بات جو اس میں چھوٹی سی رہ گئی تھی چھوٹی تو نہیں لیکن بہت اہم بات ہے لیکن تھوڑی سی عبارت رہ گئی تھی۔اس ضمن میں ایک تفصیلی مضمون یہ ہے جب میں پڑھ رہا تھا تو لکھا ہوا تھا۔ابن ابوقحافہ یعنی حضرت ابو بکر کے متعلق اور مجھے تعجب ہوا کہ آپ تو ابن ابی قحافہ کے طور پر مشہور ہیں۔ابوقحافہ تو آپ کے والد تھے۔روایت میں ابو قحافہ کیوں لکھا گیا ہے مگر وہ وقت ایسا نہیں تھا کہ میں اس بحث میں الجھتا جو پڑھا اس پر گزر گیا لیکن بعد میں جب اصل الفاظ نکالے تو