خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد ۱۲ 622 خطبه جمعه ۱۳ راگست ۱۹۹۳ء پر بنی نوع انسان کو اپنے ظلموں سے بچاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو خدائے واحد کی غیرت تمہاری حفاظت فرمائے گی اور تمہیں بنی نوع انسان کے ظلموں سے بچائے گی۔پھر فرمایا: اے میرے بندو! تم سب گم گشتہ راہ ہو ،سوائے ان لوگوں کے جن کو میں صحیح رستے کی ہدایت دوں۔پس مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ایک ہدایت تو وہ جو قرآن کی صورت میں ہمیشہ ہمیش کے لئے ہم تک آ پہنچی اور وہ جاری وساری ہدایت ہے پھر یہاں کس ہدایت کا ذکر ہے؟ اصل واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہدایت سے فیض یاب ہونے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگنی پڑتی ہے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم پڑھتے ہیں، جگہ جگہ ان کے لئے اشکال آتے ہیں۔وہ علماء کی طرف دوڑتے ہیں، کتابیں بھی پڑھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ مشکلات دور ہو جائیں یہ اچھی بات ہے ، محنت کرنی چاہئے مگر سب سے پہلے دعا کرنی چاہئے اور یہی مضمون یہاں بیان ہوا ہے۔وہ لوگ جو دعا کی طرف متوجہ نہ ہوں اور انسانوں سے قرآن کریم کے مسائل سمجھنے کی کوشش کریں۔پہلا انحصار انسانوں پر ہوان کو کبھی بھی سچا عرفان نصیب نہیں ہوتا۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ پھر ان کو ایک اشکال کے بعد دوسرا اشکال دکھائی دینے لگتا ہے۔ایک مسئلہ حل ہوتا ہے تو ایک اور کھڑا ہو جاتا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر بڑی واضح نصیحت فرمائی کہ تم مجھ سے پوچھتے ہو، اچھی بات ہے پوچھا کر ولیکن دعا تو کیا کرو۔دعا کر کے خدا سے براہ راست ہدایت طلب کیا کرو۔پھر بہت سے ایسے مسائل ہیں جو خدا خود تمہیں سمجھا دے گا اور اس طرح ہر بات میں احتیاج نہیں رہے گا۔یہ لازم ہے کہ ہر انسان کا ایک مرتبہ، ایک مقام ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے بعض کو زیادہ عرفان عطا کیا ہوتا ہے بعضوں کو کم ، اس لئے دعا کے بعد بھی ایک احتیاج رہ جاتا ہے لیکن اس احتیاج میں اور دعا کے بغیر احتیاج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔دعا کے بعد جو احتیاج باقی رہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ خود پورا فرما تا ہے۔تسلمی عطا کرتا ہے جو ہر سائل کا اصل مقصد ہے کہ اس کے دل کو تسلی نصیب ہو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت بھی تو یہی تھی دل میں ایک اشکال پیدا ہوا کہ مردے کیسے زندہ ہوں۔وہ تو میں جو صدیوں سے مری ہوئی ہیں یہ کیسے زندہ ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ سے بڑی