خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 621
خطبات طاہر جلد ۱۲ 621 خطبه جمعه ۱۳ راگست ۱۹۹۳ء آگے اپنی نسلوں تک ان خطابات کو پہنچاتے رہے۔ایک موقع پر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اس طرح اللہ تعالیٰ کے جمال اور جلال کا ذکرفرمایا۔ان الفاظ میں آپ کے سامنے میں یہ حدیث رکھتا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے۔اے میرے بندو! میں نے اپنی ذات پر ظلم حرام کر رکھا اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔اے میرے بندو! تم سب گم گشتہ راہ ہو سوائے ان لوگوں کے جن کو میں صحیح رستے کی ہدایت دوں پس مجھ سے ہدایت طلب کرو۔(مسلم کتاب البر والصلۃ حدیث نمبر : ۴۶۷۴) یہاں اپنی ذات پر ظلم حرام کر رکھا ہے کے بعد فرمایا اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ان دو باتوں کا گہرا تعلق ہے اور یہ تعلق میں آپ پر واضح کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی ذات میں انسان کے تمام مصالح اور تمام مفادات مجتمع ہو جاتے ہیں کیونکہ اگر خدا ہی ہے اور کچھ نہیں تو انسان کے سارے مفادات اس ایک ذات سے وابستہ ہو جاتے ہیں لیکن وہ مفادات حاصل کیسے ہوں گے؟ آنحضرت ﷺ نے ان اسرار سے پردہ اٹھایا ہے اور یہ فرما ر ہے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذات پر ظلم حرام قرار دیا ہے۔پس جب تک تم اپنی ذات پر ظلم حرام قرار دیئے رکھو گے تمہارا تعلق خدا سے رہے گا۔جو تمہیں ظلموں سے بچانے کا ذمہ دار ہو جائے گا۔اگر تم نے اپنی ذات پر ظلم حلال کر لئے تو خدا کے اس پہلو سے تمہارا تعلق ٹوٹ جائے گا۔یعنی خدا کی ذات سے تعلقات کی دراصل ایک حبل نہیں بلکہ بہت سی رسیاں ہیں اور ہر رسی کا کسی خاص حصے سے تعلق بنتا ہے بعض لوگ کسی ایک صفت میں اللہ تعالیٰ کی کامل غلامی اختیار کرتے ہیں اور اسی کے ہو جاتے ہیں۔اس لئے کہ وہ بعض دوسرے صفات میں ویسے نہیں ہو سکتے خدا اس پہلی نیکی کے پھل سے ان کو محروم نہیں رکھتا جس جگہ بھی اور جتنا بھی تعلق انسان خدا سے باند ھے اسی حد تک خدا اپنے رحم و کرم کے جلوے اور اپنے فضل کے جلوے اس انسان کو دکھاتا ہے۔پس ٹکڑوں ٹکڑوں میں سے آنحضرت مہ نے جو نصائح فرمائی ہیں ان میں یہ حکمت ہے کہ تم کمزور انسان ہو کس طرح دنیا کے ظلموں سے بچ سکتے ہو۔تم میں طاقت ہی نہیں ہے لیکن تم میں ایک طاقت ضرور ہے کہ اگر چاہو تو دنیا کو اپنے ظلموں سے بچالو۔اللہ تعالیٰ تم سے یہ توقع تو نہیں رکھتا کہ تم طاقت سے بڑھ کر دنیا کے ہر ظالم کے ظلم سے بچتے رہو جیسے فرمایا لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لیکن اس کیساتھ ہی یہ نصیحت ضرور کرتا ہے کہ خدا کے نام