خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 614
خطبات طاہر جلد ۱۲ 614 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۹۳ء نہیں ملتیں۔بہر حال ان کو مجبور اواپس آنا پڑا۔اس کے بعد انہوں نے بعض اور باتیں لکھی ہیں۔ایک بات انہوں نے دیکھی ہے جس کی طرف میں خصوصیت سے آپ کو بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس دوران توحید کے ضمن میں یہ کہا کہ بعض لوگ جو مجھے کہتے ہیں کہ آپ کی دعا سے یہ ہوا، آپ کی دعا سے وہ ہوا ، اس سے مجھے بہت تکلیف پہنچتی ہے۔اللہ کے فضل کی باتیں کیا کرو۔کہتے ہیں یہ بات درست ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ مثلاً ہم نے کوششیں کیں، دعائیں کیں لیکن کام نہیں بنے۔آپ کو لکھا اور دعا کا جو جواب آیا اس سے بھی صاف پتا لگتا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے اور ناممکن ہوتا ہوا کام ممکن ہو گیا اور خدا کی طرف سے ہماری اس رنگ میں بڑی حوصلہ افزائی ہوئی کہ خلافت سے تعلق اور دعاؤں کے نتیجہ میں ہمارے رکے ہوئے کام بھی چل پڑتے ہیں تو یہ حقیقت بھی سامنے ہے اور ادھر آپ کی نصیحت بھی ہے اب بتائیں ہم کیا کریں۔اصل واقعہ یہ ہے کہ قبولیت دعا سے وہ انکار نہیں تھا۔مجھے یاد ہے کئی دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے زمانہ میں مختلف وقتوں میں بعض مشکلات آپڑتی تھیں۔بعض مسائل لا نخل دکھائی دیتے تھے۔خود دعائیں کیں اور کوئی فرق نہ پڑا۔ایک موقع خاص طور پر مجھے یاد ہے۔میں دفتر وقف جدید میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ اچانک مجھے یہ خیال آیا کہ اب تک حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں دعا کے لئے نہیں لکھا۔چنانچہ دعا کے لئے لکھا اور دوسرے دن جواب آیا اور جواب کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سارار کا ہوا کام بن گیا۔ساری مشکل حل ہو گئی تو یہ واقعات درست ہیں اور اس میں کسی بندے کی ذات کا سوال نہیں ہے ، بعض مناصب پر اللہ تعالیٰ کی نظر ہے اور ان کا احترام دنیا میں قائم کرنے کے لئے ، ان سے تعلق قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ غیر معمولی طور پر رحمت فرماتا ہے۔پس جب تک میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث" کا ایک ادنی غلام اور چا کر تھا میں آپ کی دعاؤں سے مدد حاصل کرتا رہا اور میں نے بہت برکتیں دیکھیں۔پس اس حقیقت سے میں ہرگز انکار نہیں کر رہا۔اس کے علاوہ سلسلہ کے بہت سے بزرگ ہیں جن کو میں جانتا ہوں۔خود میں نے بھی ان کو دعاؤں کے لئے لکھا ہے اور ان کی برکتوں سے فیضیاب ہواہوں ،اب بھی مجھے لکھنے میں نہ صرف عار نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ضروری ہے کہ بزرگوں کو جن کا خدا سے تعلق محسوس ہو۔ان کو دعا کے لئے