خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 613 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 613

خطبات طاہر جلد ۱۲ 613 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۹۳ء تیاری کرنی چاہئے۔جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ہوگی۔بات سچی ہے۔میں بھی یہی سمجھتا ہوں تو دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کی تیاری اس رنگ میں کرنے کی توفیق بخشے۔انتظامی تربیت تو اللہ کے فضل سے ہو رہی ہے۔خدا سے ہم یہی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔یہی دعا ہوتی ہے کہ جماعت کے انتظام بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں مگر آنے والوں کی روحانی مہمان نوازی، ان کی دینی تربیت کی صلاحیت پیدا کرنا اور ان اجتماعات کو ایک عظیم روحانی اجتماع میں تبدیل کرنا یہ ہما را اول مقصد ہے اور اسی مقصد پر نگاہ مرکوز رہنی چاہئے۔اس مقصد کو ہمیشہ نظر کے سامنے رکھتے ہوئے دعائیں کریں کہ خدا ہمیں اس طرح کے عالمی جلسوں کی توفیق بخشے جو دنیا کے لحاظ سے بھی نظیر نہ رکھتے ہوں اور دین کے لحاظ سے بھی نظیر نہ رکھتے ہوں۔امین۔اس سلسلہ میں مکرم امیر صاحب کینیڈا کے خط کے بعض دلچسپ اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں تفصیلی خط ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اتنی جلدی اس پروگرام میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہوئی کہ ٹورانٹو ہی میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مسجد میں حاضری دو ہزار سے تجاوز کرگئی یعنی بڑی دور دور سے ٹورانٹو کے علاقے سے دور دور سے دو ہزار احمدی مرد و زن بچے شامل ہوتے رہے اور بیچ کے جو نانے تھے ان کو ہم نے قرآن ، درس حدیث ، درس ملفوظات سے سجایا۔بہت ہی اچھا پروگرام بنایا، ایک بہت ہی دلکش مقامی جلسہ بن گیا جو ایک پہلو سے عالمی جلسے کا بھی حصہ تھا اور ایک پہلو سے مقامی جلسہ بنا ہوا تھا۔ان کے لئے پھر خاطر مدارات کے بھی انتظام ہنگر خانہ مسیح موعود علیہ السلام جاری ہوا، Marquees لگ گئیں۔گویا کہ بہت ہی رونقیں لگیں اور کہتے ہیں کہ اتنا روحانی لطف آیا کہ الفاظ نہیں ہیں جو بیان کیا جا سکے۔کہتے ہیں کہ افتتاحی تقریر کے بعد جس میں غالبا یہ اشارہ تھا کہ آئندہ کیا آنے والا ہے۔کہتے ہیں کہ لوگ سخت بیتاب ہوئے اور اس خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ کاش ہم بھی اسلام آباد پہنچ جائیں۔ایک دوست کی حالت تو ایسی غیر ہوئی کہ گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔بار بار کہتے تھے کہ کاش میرے پر ہوں، میں بھی اڑ کر وہاں پہنچ جاؤں، ایک دوست نے اگلے روز بتایا کہ وہ ائیر پورٹ جا کر ساری رات کوشش کرتے رہے کہ کوئی جہاز مل جائے تو میں پہنچ جاؤں۔لیکن آج کل جہازوں پر مسافروں کا بہت دباؤ ہے کیونکہ چھٹیاں ہیں اور یہ سفروں کے موسم ہیں۔اس لئے آج کل مغرب میں سفر بہت مشکل ہو گیا ہے اور اگر پہلے بلنگ نہ کروائی جائے تو سیٹیں آسانی سے