خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 607
خطبات طاہر جلد ۱۲ 607 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۹۳ء رسول کریم ﷺ کی خاموش سیرت گہرے پانی کی طرح ہے۔عالمی بیعت بڑے عالمی جلسہ کی تیاری ہے۔خطبه جمعه فرموده ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں :۔قُلْ إِنَّنِي هَدْيِنِى رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِيْنًا قِيَمًا مِلَّةَ إبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام:۱۶۲_۱۶۳) پھر فرمایا:۔تو ان سے کہہ دے یعنی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو ان سے کہہ دے کہ میرے رب نے یقیناً مجھے صراط مستقیم کی ہدایت دی ہے۔دِینًا قِيَما مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِیفًا یہ وہ سیدھا سیدھی راہ پر چلنے والا ، خود قائم اور دوسروں کو قائم کرنے والا مذہب ہے۔مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيفًا جو ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے۔یعنی ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی تعریف یہ ہے کہ وہ دِینا قیما ہے۔خود بھی سیدھا ہے دوسروں کو بھی سیدھی راہ پر رکھنے والا ہے۔وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اور ابراہیم علیہ السلام مشرکوں میں سے ہرگز نہیں تھا۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا تو عربی محاورے کے مطابق یہ بہت بڑی تعریف ہے۔اردو میں ہم کسی کو کہیں کہ وہ چور نہیں ہے تو اس کو بہت غصہ آئے گا۔کہے گا کہ ہیں ! تم