خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد ۱۲ 604 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء کی عزت پر حرف آتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اٹھا کر ایک طرف پھینک دیتا ہے۔ایک حدیث سے پتا چلتا ہے کہ خدا بعضوں کو فرمائے گا جا تو اور تیری نیکیاں جاؤ جہنم میں مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں۔پس صلى الله۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ حضرت خاتم النبین ﷺ کا یہ عرض کرنا کہ مجھے گمراہی سے بچا، یہ ہمیں مقام عجز سکھا رہا ہے بجز ہوتا کیا ہے؟ یہ ہمیں ہر قسم کی نیکی کے تکبر سے کلیہ آزاد کرتا ہے۔تو زندہ ہے تیرے سوا کسی کو بقا نہیں۔یعنی اپنی زندگی کو بھی دراصل کلیہ کا لعدم قرار دے دیا ہے۔تو زندہ ہے سے مراد ہے تو زندہ ہے ہم کہاں زندہ ہیں، کوئی اور کہاں زندہ ہے، تیری زندگی سے سب کی زندگی ہے تیرے سوا کسی کو بقا نہیں جن وانس سب کے لئے فنا مقدر ہے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں آپ کے پاک وصاف سادہ کلام میں غوطے مارکر دیکھیں تو تب آپ کو معلوم ہوگا کہ عرفان ہوتا کیا ہے؟ ور نہ بعض تیراک ہوتے ہیں سطح پر تیرتے ہوئے گزر جاتے ہیں وہ بھی لطف اٹھاتے ہیں لیکن جو گہرے سمندر ہوں ان میں غوطہ زنی سے جو موتی ہاتھ آتے ہیں ان کی مثال، تیرنے والے کو جو لطف آتا تھا ان کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں، زمین و آسمان کا فرق ہے۔آنحضرت ﷺ کوخدا کی وحدت کی ایسی غیرت تھی کہ کسی شخص سے ویسے ہی آپ کی عزت کا ویسا کلمہ نکل گیا جس سے آپ کو خطرہ پیدا ہوا کہ اس میں شرک کی بو آتی ہے تو آپ نے فور ابڑی سختی سے اس کو منع کر دیا۔ایک صحابی نے آنحضور ﷺ کے سامنے عرض کیا ما شاء الله و ما شئت۔جو اللہ چاہے گا اور جو آپ چاہیں گے وہی ہو گا اس پر آپ نے فرمایا اجعلنی اللہ ندا کیا تو نے مجھے خدا کا شریک بنالیا ہے۔یوں کہو ما شاء اللہ وحدہ وہی ہو گا جو صرف اللہ چاہے گا اور کسی کے چاہنے سے ہوگا کچھ نہیں ہوگا۔(مسند احمد حدیث نمبر: ۲۵۸۴۵)۔بعض دفعہ لوگ مجھے ایسے کلمات لکھ دیتے ہیں میر ادل دہل جاتا ہے میں جانتا ہوں کہ لاعلمی میں لکھتے ہیں لیکن اس شخص نے بھی تو لاعلمی سے کہا تھا۔اسی طرح دعا کے متعلق جب کہیں دعا فرماؤ۔یوں لگتا ہے میری جان نکل گئی ہے۔میں کہتا ہوں خدا کا خوف کرو خدا کوکوئی فرما سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جیسا عشق حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے تھا اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن میں نے بڑے غور سے جہاں تک آپ کی تحریرات کا مطالعہ کیا ہے کہیں آپ نے یہ نہیں لکھا کہ صلى محمد رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی۔یہ ذکر ملتا ہے اس کی عاجزانہ دعائیں ہی تو تھیں جس نے یہ کام کیا صلى الله