خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 603 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 603

خطبات طاہر جلد ۱۲ 603 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء ہے۔یا د رکھیں تو کل سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ہے اس لئے خدا آر پی کرے گا۔تو کل کے ساتھ ایک عاجزی پیدا ہوتی ہے۔تو کل کر کے انسان کا عجز اختیار کرنا ایک لازمی حصہ ہے۔جس کے نتیجے میں تو کل کو تقویت ملتی ہے پھر عرض کیا! تیری مدد سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہوں۔مقابلہ تو کرتا ہوں لیکن میں اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں۔پس میں تیری مدد سے ضرور غالب آؤں گا۔اے میرے اللہ میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں۔سب پناہوں سے بڑی اللہ کی عزت کی پناہ ہے کیونکہ خدا کو اپنی عزت کی سب سے زیادہ غیرت ہے۔جو شخص خدا کی عزت کی پناہ میں آ جائے کوئی دنیا کی طاقت اس کا بال برکا نہیں کر سکتی کیونکہ اگر اس پر کوئی طاقت حملہ کرے گی تو اللہ کی عزت پر حملہ کرے گی اور سب سے زیادہ خدا اپنی عزت کے لئے غیور ہے۔کوئی عام انسان یہ دعا سوچ ہی نہیں سکتا۔جتنا مرضی اپنے دماغ کولڑا کے دیکھ لیں جس کو گہر اعرفان الہی نصیب نہ ہو اس کے ذہن میں یہ دعا آ ہی نہیں سکتی۔ورنہ کہیں گے میں تیرے جبروت کی پناہ میں آتا ہوں ایسی دعائیں بھی ملتی ہیں، تیری قدرت کی پناہ میں آتا ہوں۔تیری جبروت کی پناہ میں آتا ہوں لیکن عرض کیا میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔عزت کی پناہ چاہنے میں حضور اکرمی اللہ کو اللہ کے لئے عزت کی جو غیرت تھی وہ بھی جھلک رہی ہے۔یہ ذہن میں خیال ہی تب پیدا ہو سکتا ہے کہ انسان کے نزدیک خدا کی عزت کو بہت ہی بڑا مرتبہ اور مقام حاصل ہو۔جو ان سوچوں میں سے گزرا ہو جوان جذباتی کیفیات میں سے گزرا ہو، اس کے وجود پر خدا کی عزت حاوی ہو چکی ہو ، وہ جانتا ہو کہ یہ انسان کو اپنی ذات میں ہر طرف سے لپیٹ لیتی ہے یہ کلام جو آنحضرت ﷺ کے دل پر جو خدا کی عزت کا مقام تھا اس کو بھی ظاہر کرتا ہے۔پھر آخر پر عرض کیا تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھے گمراہی سے بچا۔کیا عظیم بجز کا مقام ہے، عرفان اپنی آخری حدوں تک پہنچ گیا تمام مراتب نصیب ہو گئے فرمانبرداری نے نئے ایمان کو جنم دیا، ایمان سے تو کل پیدا ہوا عزت کی پناہ میں آگئے اور عرض کر رہے ہیں تو مجھے گمراہی سے بچا۔جب تک سانس میں سانس ہے اس وقت تک ہدایت خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔یہ انتہائی بجز کا مقام ہے جس کے بعد کسی کے ذہن میں اپنی نیکی کا جھوٹا تصور باقی رہ ہی نہیں سکتا۔بڑے بڑے متقی کہلانے والے دنیا میں آئے لیکن اگر انہوں نے خدا کی شان میں ذراسی بھی کوئی ایسی حرکت کی جس سے خدا