خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 599 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 599

خطبات طاہر جلد ۱۲ 599 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۹۳ء Toranm ہیں اور Konan Emile Oje ہیں اور نمائندہ وزیر دفاع Tahir Ahmad( Fanny جو نمائندہ وزیر داخلہ ہیں ( ان کے نام ویسے معززین کے طور پر لکھ دیئے گئے ہیں میں صرف ان مبلغین کا ذکر کرنا چاہتا تھا جنہوں نے دعوت میں کوشش کی ہے ) بورکینا فاسو سے محمد ادریس شاہد صاحب ہمارے امیر ہیں ۔ ابراہیم سانفو Ibrahim) Sanfo ان کے ساتھ بہت بڑی خدمت کرنے والے، اسحاق تر اورے (Issaq Traore) ہیں۔ )Mohammad Sabanba (ہیں ، محمد سابایا نبا یہ چند نام ہیں جو جلدی میں تیار کر کے مجھے دیئے گئے ہیں۔ مگر خدمت کرنے والوں کی فہرست بہت وسیع ہے۔ کیونکہ سارے افریقہ پر پھیلے ہوئے خدام دین ہیں۔ جنہوں نے حقیقت میں اپنی کوششوں کو درجہ کمال تک پہنچایا ہے اور دعاؤں نے ان کوششوں کو بار آور فرمایا ہے۔ ان کی ساری عاجزی اور دعاؤں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان پر رحمتوں کی بارشیں برسائیں اور بہت اچھے اچھے پھل ملے ۔ پس یہ جو عالمی توحید کا عجیب منظر آپ نے دیکھا اس میں یہ سب خدام ہیں اور وہ بھی جن کے نام نہیں لئے جاسکتے ان سب کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جو توحید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو۔“ فرمایا ہے۔ اس خاص رنگ کا نمونہ سب سے اعلیٰ اور افضل اور درجہ کمال کو پہنچا ہوا ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ہے صلى الله عروسة کے اسوہ حسنہ میں ملتا ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ احادیث میں آپ کے سامنے پہلے پیش کر چکا ہوں۔ ایک حدیث اور رکھتا ہوں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ جب اللہ کا ذکر صلى الله فرماتے تھے۔ تو اس سے ایسی عظیم قوت پیدا ہوتی تھی کہ سننے والا لا ز ما یقین کرتا تھا کہ یہ ایسا ذکر کرنے والا ہے جس کا خدا کی ذات سے ایک تعلق ہے، اس کی بات میں غیر معمولی طاقت ہے۔اس کا نمونہ کا ایک نمونہ مسلم کتاب الجمعہ کی ایک حدیث میں ہے۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ از وشنوء کا ایک آدمی جس کا نام ضماد تھا سکے آیا ۔ وہ دم درود جھاڑ پھونک سے کام لیتا تھا۔ اس کو حضرت اقدس محمد رسول الله ﷺ کے متعلق یہ بتایا گیا کہ آپ کو دیوانگی کا دورہ پڑ گیا ہے۔ یعنی نعوذ باللہ آپ نہ تھا، تھا دیوانہ ہو گئے ہیں اور چونکہ یہ دم درود کرتا تھا ، جھاڑ پھونک سے کام لیتا تھا اور اس کے دل میں ویسے سچی ہمدردی ، انسانیت کا جذبہ پایا جاتا تھا۔ اس لئے کوشش کر کے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الله