خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 597
خطبات طاہر جلد ۱۲ 597 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء ممد و معاون نہ ہوتے تو شاید کوائف کی شکل بالکل اور ہوتی۔میں نے خود دورے میں دیکھا ہے افریقین معلمین خدا کے فضل سے بہت ہی روشن دماغ ہیں اور ایسی اچھی تقریر میں کرتے ہیں کہ آدمی وجد میں آ جاتا ہے اور ترجمہ کرنے کا ایسا فن رکھتے ہیں کہ دنیا میں شاید کسی قوم کو نصیب نہ ہوا ہو۔ہمارے ہاں بھی ترجمہ کیا جاتا ہے لیکن پاکستان سے شکایت ملی کہ انگریزی سے آپ کی مجالس سوال وجواب کا جو اردو ترجمہ ہو رہا تھا اس سے بالکل تسلی نہیں ہوتی تھی۔ایک صاحب آئے پھر دوسرے صاحب آئے لیکن بات بنی نہیں۔کیوں کہ لوگ انگریزی بھی سمجھ رہے تھے اردو بھی سمجھ رہے تھے وہ ساتھ ساتھ موازنہ کر رہے تھے لیکن دوسرے ترجمے جو ہیں وہ اچھے ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ جو افریقین ہیں یہ تو ایسا اچھا ترجمہ کرتے ہیں، بعض دفعہ میں بھول جاتا تھا کہ ترجمہ ہونا ہے آدھا آدھا گھنٹہ مسلسل خطاب کرتا تھا بیٹھتا تھا تو ایک افریقین معلم ترجمے کے لئے کھڑا ہو جاتا تھا اور چونکہ جو بات کہی جائے اس کے مضمون سے ایک انسان کا رابطہ رہتا ہے زبان نہ آنے کے باوجود علم ہو جاتا ہے کہ اس وقت کیا کہہ رہا ہے۔تو میں حیرت سے دیکھتا رہ گیا کہ تمام مضمون من و عن بیان کیا اور جس موقع پر جوش اٹھنا چاہئے اس موقع پر لوگ جوش سے کھڑے ہوتے تھے اور نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتے تھے۔یہ جو مقامی معلمین ہیں ان سے اور بھی زیادہ استفادہ کرنا چاہئے ان کا خیال رکھنا چاہئے ان کی دلداری کرنی چاہئے ، ان کی ضرورتیں پوری کرنی چاہئیں۔تمام افریقہ کے امراء کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ کیڈر کا حساب چھوڑیں۔جو خدمت دین میں پیش پیش ہیں ان کی ہر قسم کی ذاتی ، خاندانی ضروریات پر ویسے نظر ہونی چاہئے۔دورے کے وقت ایک موقع پر میں نے ایک امیر سے بڑا ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ یہ قانون کو لے کے بیٹھ گئے کہ جی اس کو اتنی تنخواہ ملنی چاہئے اس کو اتنی ملتی چاہئے۔میں نے کہا جماعت کا ایک اور بھی قانون ہے کہ تنخواہوں کے علاوہ جو آپ کے ملازم نہیں بھی ہیں اس کی بھی جو جائز ضرورتیں ہیں جہاں تک توفیق ہو جماعت کو پوری کرنی چاہئیں۔پس اپنے کارکنان کا خیال رکھنے کا سب سے زیادہ ذمہ وار وہ شخص ہے جس کے ماتحت کچھ خدمت کرنے والے ہیں۔اگر عام قانون اجازت نہیں دیتا تو دوسرا قانون تو وہ ایسا ہے جس کی کوئی حد نہیں۔مجھے مطلع کیا کریں، بتائیں کہ ہماری فلاں جگہ اتنے خدمت کرنے والے ہیں۔ان کی غیر معمولی ضرورتیں ہیں۔ان کو انشاء اللہ تعالیٰ پورا کیا جائے گا تاکہ خوشی کے ساتھ بغیر کسی فکر کے یہ اس میدان