خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 595

خطبات طاہر جلد ۱۲ 595 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء دوسری چیز کو قربان کر سکتا ہوں۔مگر جو لطف مجھے ان تین مہینے میں خدمت کا آ گیا ہے ساری زندگی میں کبھی ایسا لطف محسوس نہیں ہوا۔تو میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ باقی سب بھی اسی جذبے سے معمور ہوں گے لیکن افریقہ میں جن خدمت کرنے والوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان کا پھر بھی اپنا الگ مقام ہے۔ان کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی قربانیوں کی توفیق عطا فرمائی۔ایک بہت ہی با اثر اور بارسوخ پیرا ماؤنٹ چیف نے مجھ سے بیان کیا کہ میری احمدیت کی وجہ تو دراصل آپ کے مبلغین کی قربانیاں ہیں۔کہتے ہیں ایسے علاقے ہیں جہاں ہم بھی رہنے سے ڈرتے ہیں۔خوفناک مچھر خوفناک کیڑے مکوڑے، سانپ ، بچھو، ہر قسم کے گند ہر قسم کے ایسے زہریلی قسم کے کیڑے ہیں جو جسم میں داخل ہوتے ہیں تو پھر نکالے نہیں جا سکتے ایک زندگی کا عذاب بن جاتے ہیں، کسی چیز کی پرواہ نہیں کی ، دریاؤں سے گزرے جنگلوں میں گئے اور بار بار آ کر منتیں کرتے تھے کہ خدا کے لئے مان جاؤ ، خدا کے لئے مان جاؤ کہتے ہیں اتنا درد تھا، اتنی بے قراری تھی ان کی اپیلوں میں کہ آخر میری ہمت جواب دی گئی میں نے کہا ٹھیک ہے تم ٹھیک کہتے ہو۔کہتے ہیں جب میں نے یہ فیصلہ کیا تو اچانک دنیا ہی اور دکھائی دی یوں لگتا تھا یہاں سب نور ہی نور ہے اور دوسری طرف کچھ بھی نہیں۔یہ غیر معمولی قربانی کرنے والے ہیں ان کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔جو حصہ لینے والے ہیں ان کی فہرست تو بہت ہی لمبی ہے۔لیکن جو یہاں تشریف لا سکے ہیں۔یہ وہ ہیں جنہوں نے ایک دوسرے سے سبقت کے میدان میں غیر معمولی کا رہائے نمایاں ادا کئے یا مثلاً ان ملکوں کے امیر ہیں۔ان کی فہرست تو بہت ہی لمبی ہے لیکن جو یہاں تشریف لا سکے ہیں۔ان سب کو جن کو یہاں آنے کی توفیق ملی ہے چونکہ میں مل چکا ہوں ان کے متعلق میں جانتا ہوں، ان کے ناموں کی فہرست میرے سامنے ہے وہ میں پڑھ کے سنانا چاہتا ہوں تا کہ ان کو بھی اور ان کے پیچھے رہنے والوں کو بھی آپ اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے یادرکھیں۔انشاء اللہ انہوں نے واپس جا کر پھر از سر نو کام شروع کرنے ہیں یہ بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ خیر وعافیت سے واپس لے کے جائے ان کے عزم اور حو صلے میں کوئی کمی نہ آئے بلکہ نیا جوش پیدا ہواللہ ان کے عزموں کی حفاظت فرمائے۔ان کو پورا کرنے کی توفیق عطا فر مائے اور اگلا سال اس صلى الله سے بھی کئی گنا زیادہ شان و شوکت کے ساتھ تمام دنیا کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے تلے جمع کرنے والا سال بنے اور امت واحدہ بننے کے جو نظارے ہم دیکھ رہے ہیں ان کی چمک ہمیشہ