خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 594 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 594

خطبات طاہر جلد ۱۲ 594 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء عیسائیت نے ایک جان بنایا ہے اور دوسرے مذاہب اور فرقے ہیں وہ بھی اپنے اپنے زور مار رہے ہیں کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا پر غلبہ ہو لیکن امت واحدہ بنانے کا منظر جماعت احمدیہ کے سوا کل عالم میں آپ کو کہیں دکھائی نہ دے گا۔اس کا تعلق دلوں کی سچائی سے ہے، اس کا تعلق روحوں کے تقویٰ سے ہے۔وہ رومیں جو خدا تعالیٰ سے محبت کرتیں اور خدا کا خوف رکھتیں ہیں وہی تقویٰ ہے جو نور بناتا ہے۔وہی تقویٰ ہے جو کل عالم کو روشن کرے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ اور اسی کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں نصیحت فرمائی ہے۔جب فرمایا کہ ”ہماری جماعت کی ترقی بھی تدریجی اور گزرے ہوگی اور وہ مقاصد اور مطالب اس پیج کی طرح ہیں جو زمین میں بویا جاتا ہے وہ مراتب اور مقاصد عالیہ جن پر اللہ تعالیٰ اس کو پہنچانا چاہتا ہے ابھی بہت دور ہیں وہ حاصل نہیں ہو سکتے۔جب تک وہ خصوصیت پیدا نہ ہو جو اس سلسلہ کے قیام سے خدا کا منشاء ہے تو حید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو۔“ ( ملفوظات جلد ۲: ۶۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا جماعت کے اعلیٰ مقاصد سے متعلق یہ پہلا تصور ہے۔کہ یہ ہوتو پھر یوں ہو جائے آگے پھر تین باتیں اور بیان ہوئی ہیں جن کے متعلق انشاء اللہ میں بعد میں بیان کروں گا۔اس ضمن میں مضمون کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ افریقہ کے مجاہدین جنہوں نے غیر معمولی اخلاص اور جان کا ہی کے ساتھ خدمت کی ہے وہ خصوصیت سے جماعت احمد یہ عالمگیر کی دعاؤں کے مستحق ہیں۔خدمت کرنے والوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک کو حصہ ملا ہے، کوئی ملک ایسا نہیں رہا، جہاں والہانہ جذبوں کے ساتھ عالمگیر بیعت میں شمولیت کے لئے احمدیوں نے تیاری نہ کی ہو ، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے نوکریوں سے چھٹیاں لے لیں، کچھ ایسے تھے جنہوں نے اپنی تجارتوں کو اپنے بچوں کے سپرد کیا اور کہا یہ تین چار مہینے ہم سے کوئی اور بات نہ کرو۔ان کے جو خطوط مل رہے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس کے بعد وہ تھکے نہیں بلکہ جذبے پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ بیدار ہوئے ہیں اور ہیجان کی کیفیت کم ہونے کی بجائے اور زور پکڑ گئی ہے۔چنانچہ انہی میں سے ایک آدمی کا مجھے خط ملا کہ تین مہینے کا کام سمجھے کے میں نے بڑے جوش سے حصہ لیا اب تو یوں لگتا ہے کہ اس کام کو میں کبھی چھوڑ ہی نہیں سکتا اور ہر