خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 587
خطبات طاہر جلد ۱۲ 587 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء آپ اس جلسے کی اغراض کو ہاتھ سے کھو دیں گے اور کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔پس یاد رکھیں کہ صرف میری تقریروں میں ہی حاضر نہیں ہوا بلکہ تمام علماء نے بڑی محنت سے آپ کی خاطر آپ کے تزکیہ نفس کی خاطر آپ کو تعلیم کتاب اور حکمت دینے کی خاطر جو مضامین تیار کئے ہیں۔حاضر رہیں اور غور سے ان کو سنیں۔جو بقیہ وقت بچتا ہے اس کی لذت کمائیں اور پھر وہ لذت حاصل کریں تو کوئی حرج نہیں۔لیکن اصل وقت کو لذت یابی میں خرچ کر دینا اور لذت کمانا نہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔لذت کا مزا بھی نہیں آتا۔وہ مزدور جو محنت کرتا ہے سارا دن پھر روٹی کھاتا ہے اس کو بہت مزا آتا ہے چاہے وہ پیاز سے ہی کھا رہا ہو اور جو سارا دن گیئیں مارتا ہے اس کی گئیں ہی بوریت ہو جاتی ہیں۔مصیبت پڑی ہوتی ہے اور کوئی بات دل کو بہلانے والی کروں۔دماغ میں ہی نہیں آتی اور بعض دفعہ ایسی مجلس میں تو تو میں میں اور بکواس میں ختم ہو کہ ایک دوسرے سے دوستوں کو اور بھی دور کر جاتی ہے۔مگر جو سارا دن کا تھکا ہوا ہو ، سارا دن اس نے محنت کی ہو، کچھ مشغلہ تھوڑا سا دوستوں میں بیٹھنے کا میسر آ جائے تو بے اختیار کہتا ہے۔بھلا گر دش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء غنیمت ہے کہ ہم صورت دو چار بیٹھے ہیں تو پہلے اتنی محنت کریں، اتنا روحانی کمائی کریں کہ آپ سمجھیں کہ اب میراحق ہو گیا کہ تھوڑی سی چھٹی کر لوں۔جلسے سے باہر جائیں اور کچھ دوستوں سے ملاقاتیں بھی کریں۔وہ بھی جلسے کے مقاصد میں شامل ہے، کچھ تعلقات بڑھائیں، کچھ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار کے اظہار کریں۔واقفیتیں حاصل کریں۔یہ سارا جلسے کے مقاصد میں شامل ہیں مگر ثانوی مقاصد ہیں اولین میں نہیں۔اولین کو قربان کر کے ثانوی مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو تو فیق عطا فرمائے۔ان بابرکت ایام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں اور حاضرین جلسہ جو بہت دور دور سے اور بڑی محنت سے یہاں تشریف لائے ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس جلسہ گاہ کی رونق بنے رہیں۔اس کے بعد پھر جتنے خالی وقت ہیں ان کو ذکر الہی میں بھی صرف کریں اور ذکر الہی کے تابع مومنانہ محبت بڑھانے میں بھی صرف کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)