خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 583

خطبات طاہر جلد ۱۲ 583 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء گریہ وزاری کے ساتھ اپنی راتیں جگادے گا۔جو اس قد را سلام کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان کرے گا اور اس قدر محنت کرے گا کہ خدا کے فضل کی نظر اس پر پڑے گی اور اسے چنا جائے گا کیونکہ وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا کامل غلام ہوگا، سب سے زیادہ آپ ﷺ کا عاشق ، سب سے زیادہ آپ کے دین کی فکر کرنے والا ہو گا تب وہ خدا کے فضل سے پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی کہ کل عالم کو دوبارہ اسلام کی طرف لے جایا جائے گا اور الہی کلام یہ گواہی دے گا۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ دیکھو دیکھو۔محمد کے غلام اس زمانے میں بھی پیدا ہو گئے ہیں۔چودہ سو سال کے بعد آج تم ایک اجتماع کو دیکھ رہے ہو جو محم مصطفی ہے کے وہ کامل غلام ہیں جن کو آسمان فخر سے دیکھ رہا ہے، جن کے متعلق زمین و آسمان کا خدا گواہی دے رہا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو بعد میں آنے کے باوجود اولین سے صلى الله جاملے ، ان اولین سے جاملے جن کو محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا سے ملا دیا۔پس جہاں آپ کا مرتبہ اور یہ مقام بیان ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں اسی قدر بجز کی ضرورت ہے، اسی قدر انکساری کی ضرورت ہے کیونکہ جب ہم اپنے حال پر غور کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ہرگز اس لائق نہیں پاتے۔دنیا میں انسان بعض دوسرے لوگوں کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہے اور عزت کی مختلف وجوہات ہیں۔نیک جماعتوں میں نیکی کو عزت کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أنفسكُمْ (الحجرات: ۱۴) تم میں سب سے ط زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے لیکن ساتھ ہی فرمایا۔فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقى (النجم :۳۳) تمہیں کیا پتا کہ کون متقی ہے؟ تم خواہ مخواہ ایک دوسرے کی عزتیں اس طرح نہ بتایا کرو کہ وہ بڑا متقی آدمی ہے۔هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى وہی ایک ذات، ایک اللہ ہی ہے جو جانتا ہے کون متقی ہے؟ اور کون نہیں؟ پس جہاں تک ہماری اپنی ذات کا تعلق ہے۔ہم نہ کسی اور کے تقویٰ کی گواہی دے سکتے ہیں، نہ اپنے تقویٰ کی گواہی دے سکتے ہیں لیکن ایک بات کا احساس ہمیں ضرور تقویٰ عطا کرے گا کہ خدا نے ہمارے تقویٰ کی گواہی دی ہے۔جو اس نے کہا ہے کہ آخرین میں آکر تم اولین سے جاملو گے تو ناممکن تھا کہ ہمارے تقویٰ پر نظر کئے بغیر خدا یہ گواہی دے دے۔پس وہ جو سب سے زیادہ دلوں کا حال جاننے والا ہے وہ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى جس کے متعلق بیان ہوا ہے۔وہ کہتا ہے کہ وہ متقیوں کی جماعت ہوگی۔پس اپنے تقویٰ کی حفاظت