خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 567 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 567

خطبات طاہر جلد ۱۲ 567 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔یہ دو خصوصیات پوری شان کے ساتھ عزیزہ حوری میں موجود تھیں اور حسنِ بیان کے ملکہ سے خدا نے ایسا نوازا تھا کہ اپنے ہوں یا غیر ہوں جو بھی ان کی تقریریں سنتا تھا وہ ہمیشہ ان سے گہرا اثر لیتا تھا اور ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتا تھا۔میں نے کبھی کراچی کی یا باہر سے آنے والی کسی خاتون سے کبھی ایک لفظ بھی ان کے کردار کے خلاف نہیں سنا۔محبت کے ساتھ لجنہ کے فرائض سر انجام دینے والی لیکن خدا نے حسن بیان کا جو ملکہ بخشا تھا وہ خصوصیت سے سیرت کے مضمون پر ایسے جلوے دکھاتا تھا کہ ان کی شہرت دور و نزدیک پھیلی ہوئی تھی اور جب بھی سیرت کے مضمون پر زبان کھولتی تھیں تو بعض ایسی متعصب خواتین بھی جو احمدیت سے دشمنی رکھتی تھیں اگر وہ اس جلسہ پر لوگوں کے کہنے کہلانے پر حاضر ہو گئیں تو ایک ہی تقریرین کران کی کایا پلٹ جایا کرتی تھی۔وہ کہا کرتی تھیں کہ اس کے بعد ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم جماعت احمدیہ پر یہ الزام لگائیں کہ ان کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم سے محبت نہیں۔تحریر کا ملکہ بھی خدا نے عطا فرمایا تھا۔کئی چھوٹی چھوٹی کتابیں سیرت کے مضمون پر بھی انہوں نے لکھیں۔ان کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد گھر واپس آرہی تھیں کہ دل کے دورہ سے وفات ہو گئی۔اللہ غریق رحمت فرمائے۔ساری جماعت کراچی سے میں تعزیت کرتا ہوں۔مکرم مرزا عبد الرحیم بیگ صاحب اور خاندان اور ان کے میاں داؤد اور بچوں سے تو ہے ہی ضرور لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ساری جماعت کراچی تعزیت کی محتاج ہے اور لجنہ اماءاللہ کراچی خصوصیت سے تعزیت کا حق رکھتی ہے۔سب دنیا کی عالمگیر جماعتوں کی طرف سے میں تعزیت کا یہ پیغام ان تک پہنچاتا ہوں۔اللہ غریق رحمت فرمائے اور جس سیرت کے بیان پر انہوں نے اپنی زندگی صرف کی ، خدا تعالیٰ اس سیرت کے فیض سے ان کے بچوں کو صبر محمدی عطا کرے۔ان کے خاوند کو صبر محمدی عطا کرے۔ان کے والد کو اور دوسرے عزیزوں کو ( مجھے علم نہیں کہ والدہ زندہ ہیں کہ نہیں ، خدا کرے زندہ ہی ہوں) سب کو خدا صبر محمد ی عطا فرمائے اور سیرت کا یہ فیض ان کے خاندان کو خصوصیت سے پہنچے۔دوسری خاتون جن کا میں مختصراً ذکر کرنا چاہتا ہوں۔یہ انگلستان کے ہمارے مبلغ نسیم احمد باجوہ صاحب کی والدہ اور چک پنیار کے چودھری حاکم علی صاحب کی صاحبزادی تھیں۔ان کا نام سلیمہ اہلیہ چودھری محمد شریف صاحب باجوہ مرحوم جو حفاظت خاص کے عملے میں بھی شامل رہے اور