خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 566
خطبات طاہر جلد ۱۲ 566 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء کر تہجد کے وقت جلوس کی صورت میں کلمات لا اله الا الله محمدرسول اللہ کا ورد کرتے ہوئے اور ترنم کے ساتھ درود پڑھتے ہوئے جلسہ گاہ کے اردگرد جو قیام گاہیں ہیں ان کے دورے کریں ، ان کا طواف کرتے رہیں یہاں تک کہ اس مترنم اور دل پر گہرا اثر کرنے والی آواز سے لوگ خود بخو داٹھنے لگیں۔آپ نے اگر کمروں میں گھس کر ان کے کپڑے کھینچ کر اتارے تو یہ عبادت پر قائم کرنے کا کوئی صحیح طریق نہیں۔آپ متنفر کر دیں گے ، بعض لوگ شاید ٹانگیں بھی ماریں لیکن یہ عبادت کا طریق نہیں ہے۔حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے وہ ہمیشہ اپنی اولا دکو عبادت کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے وہ ہمیشہ عبادت کی طرف متوجہ فرمایا کرتے تھے لیکن کبھی ایک دفعہ بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے اپنے عزیزوں کی چادر میں کھینچ کھینچ کر اتاری ہوں، ان کو دھکے دے دے کر بستروں سے گرایا ہو، چار پائیاں الٹائی ہوں کہ اٹھو۔ہاں یہ ذکر ملتا ہے کہ آپ نے جگانے کی کوشش کی کوئی نہیں جاگ سکا تو دوسرے دن آپ نے شدید غم کا اظہار کیا۔بہت تکلیف محسوس کی۔پس اگر آپ عبادت کے ساتھ محبت رکھتے ہیں اور آپ کے کہنے کے باوجود کوئی نہیں سنتا تو آپ کو لازماً تکلیف ہو گی۔اس تکلیف کو ساتھ ساتھ دعاؤں میں بدلیں گے تو انشاء اللہ آپ کی ساری نصیحتیں کارگر ثابت ہوں گی۔اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اس عظیم الشان مقدس روحانی اجتماع کے حقوق ادا کرنے کے قابل بن سکیں اور خدا ہی کی توفیق سے یہ نصیب ہو سکتا ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دومرحومین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: آج نماز جمعہ کے بعد دو پاکباز خواتین کی نماز جنازہ پڑھائی جائے گی جو خدمت دین میں پیش پیش تھیں یا دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور عبادات میں اور لوگوں کی نیک تربیت کرنے میں انہوں نے اپنی زندگی صرف کی۔ان میں سے ایک ہماری عزیزہ بشری داؤ دھوری ہیں جو مکرم و محترم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب نائب امیر کراچی کی صاحبزادی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اکثر پہلوؤں سے انہوں نے اپنے باپ کے سب گن پوری طرح اپنے وجود میں زندہ رکھنے کی کوشش کی اور بے لوث خدمت جس کے ساتھ دکھاوے کا کوئی عنصر نہیں اور انتھک خدمت جو مسلسل سالہا سال تک رواں دواں رہتی ہے۔یہ وہ دو خصوصیات ہیں جن میں مکرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب ایک