خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 565 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 565

خطبات طاہر جلد ۱۲ 565 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء کی کامل اطاعت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے وہ پھر اندر رک نہیں سکتی۔وہ چہروں سے علامتیں بن کر جھلکنے لگتی ہے، نمایاں روشنی کی صورت میں جگمگانے لگتی ہے۔اسی کی طرف خدا نے اشارہ فرمایا ہے کہ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ تو آخری بات یہی ہے کہ سجود کے ذریعہ اپنے اندر حسن و احسان پیدا کریں اور جب سجود کی بات کرتا ہوں تو لازماً آخری نصیحت یہی ہے کہ عبادتوں کی طرف خاص توجہ اور خاص انہماک کے ساتھ نظر رکھیں اور اس رنگ میں عبادتیں کریں کہ وہ آپ کے وجود کا ایک فطری حصہ بن چکی ہوں۔کئی قسم کے لوگ وہاں آئیں گے، کئی ایسے ہوں گے جو عبادتوں میں کمزور ہوں گے۔ان کو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوگوں کو دکھانے کے لئے عبادت کریں کیونکہ عبادت تو صرف خدا کو دکھانے کے لئے کی جاتی ہے مگر وہ لوگ جو سچ مچ عبادت سے واقف ہو چکے ہیں ،عبادت کے اسرار سے ان کو آشنائی ہے ان کو میں کہتا ہوں کہ ان کے اندر خدا نے حسن واحسان کا مادہ پیدا کر دیا ہے وہ خود بخود ان کے دلوں سے پھوٹ رہا ہوگا۔دعائیں کرتے رہیں اور اپنے ان کمزور ساتھیوں اور بھائیوں بہنوں کو توجہ دلاتے رہیں کہ وہ بھی عبادت کریں ، وہ بھی سجدے کریں کیونکہ عبادت اور سجدوں سے نتیجہ میں حقیقت میں مومن کے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو ساری دنیا میں حسن و احسان بن کر پھیلتی ہیں اور دنیا کے قلوب کو فتح کرتی ہیں۔پس عبادت کی طرف توجہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بہت سے آنے والے ایسے ہیں جنہوں نے نئی نئی احمدیت قبول کی ہوگی۔عبادت پر لوگوں کو توجہ دلانا کوئی منافقت نہیں ہے، کوئی دکھاوا نہیں ہے، یہ دین کا بنیادی فریضہ ہے۔پس آپ ان کو اس لئے عبادت کی طرف توجہ نہیں دلائیں گے کہ لوگوں کو دکھانے کی خاطر ہی دو دن نمازیں پڑھ لو، میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان کو کہو کہ عبادت پر قائم ہوں اگر پہلے نہیں تھے تو آج قائم ہو جاؤ اور ہمیشہ کے لئے قائم رہو۔کم سے کم اتنا تو ہوگا کہ اگر اب تم نے عبادت کا حق ادا کرنا شروع کیا تو کچھ لوگ تمہیں دیکھ کر ٹھوکر نہیں کھائیں گے۔اس رنگ میں اس حکمت کے ساتھ لوگوں کو سمجھائیں اور صبح نمازوں پر جگانے کا بھی انتظام کریں جس طرح قادیان اور ربوہ میں ہوا کرتا تھا اور بھی کئی جماعتوں میں ہوتا ہو گا۔یہاں اسلام آباد میں بھی جس طرح گزشتہ سال یہ کام شروع کر وایا گیا تھا، بچے اور کچھ ساتھ بڑے ان کو لے