خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 564
خطبات طاہر جلد ۱۲ 564 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء کچھ یہ بھی ہے اور کچھ یہ بھی ہے کہ بعض قوموں کو خدا تعالیٰ نے یہ سعادت بخشی ہے کہ جب وہ کوئی سچی بات کہہ رہا ہو جس کو دل سے ایک تائید حاصل ہو چکی ہو اور کہنے والے کا دل اس کی بات کی پشت پناہی کر رہا ہو تو یہ ایک ایسا مضمون ہے جو تفصیل سے بیان تو نہیں کیا جا سکتا لیکن محسوس کیا جاسکتا ہے۔ایک نصیحت کرنے والا ہے جس کی بات عقل سے تعلق رکھتی ہوگی لیکن اس میں دل شامل نہیں ہوتا ، وہ جذ بہ داخل نہیں ہوتا جو اس بات کو ایک قوت بخشتا ہے۔پس یہ بھی ایک ذریعہ ہے میلان کالیکن بنیادی بات وہی ہے۔دل کی بات کو دل پسند کرتا ہے اور جب محسوس کرتا ہے کہ بات دل سے نکلی ہوئی ہے تو اچا نک رجحان تبدیل ہو جاتا ہے۔پس ان رپورٹوں میں جو کثرت سے بہت کامیاب تبلیغوں سے متعلق ملتی ہیں ایک یہ مضمون بھی بار بار دکھائی دیتا ہے کہ فلاں نے ہم سے یہ سلوک کیا اور فلاں سرداروں نے ہمیں دھتکار دیا، رد کیا مخالفانہ حرکتیں کیں مگر ہمارا دل مانتا ہی نہیں تھا کہ ان کو چھوڑ ہیں۔خطرات بھی پیش آئے مگر ہم نے بالکل پرواہ نہیں کی۔ہم نے کہا کہ ہم تو تمہیں ایک سچی بات پہنچانے کے لئے آئے ہیں اور پہنچا کر چھوڑیں گے۔آخر اچانک ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ وہ لوگ جو مخالفت پر آمادہ تھے ، بات سننے کے لئے تیار نہیں تھے اچانک انہوں نے دل و دماغ کے دروازے کھول دیئے۔صد مرحبا کہا، قبول کیا ، خدمتیں کیں اور اپنی گستاخی پر معذرتیں کیں تو معاملات دراصل دل ہی کے ہیں۔پس دل جیتنے کے لئے جس حسن و احسان کی ضرورت ہے اس کے جلوے اس جلسہ کے میدان میں کثرت سے دکھائیں اور حسن و احسان دکھانے کی بات جب میں کرتا ہوں تو اس میں ایک چھوٹی سی غلطی بھی شامل ہو گئی ہے۔دراصل حسن و احسان دکھانے کے لئے کیا نہیں جاتا ،حسن واحسان انسانی فطرت سے چھلکا کرتا ہے۔قرآن کریم نے ان مضامین کو لطیف اشاروں کی صورت میں ہمیں سمجھایا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: سِيْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ( ٣٠) اب یا درکھو وہ سجدے جن کا ذکر چل رہا ہے یہ دنیا سے چھپ کر خدا کے حضور راتوں کو کئے جانے والے سجدے ہیں۔کوئی دنیا میں ان کو دیکھ نہیں رہا ہوتا۔کسی کے وجود، اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ کہاں کون خدا کا بندہ اس طرح خدا کے حضور سجدہ ریز ہے لیکن دل کی وہ نیکی جو خدا تعالیٰ