خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 563
خطبات طاہر جلد ۱۲ 563 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء ہر آنے والے خیال کے رستے میں روکیں کھڑی کرنی ہیں ، تالے لگا لینے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے بھی ایسے لوگوں کے دلوں کی کیفیت کا یہ حال بیان کیا ہے کہ آمْ عَلَى قُلُوْبِ أَقْفَالُهَا ( محم:۲۵) کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔وہ تالے نفرتوں اور تعصبات کے تالے ہوتے ہیں اور اگر دماغ کو مخاطب کیا جارہا ہے تو پیغام جب تک دماغ سے دل تک نہ اتر جائے قبول نہیں ہو گا۔پس سفر دلوں سے کیوں نہ شروع کریں جو خود اپنے تالے توڑیں گے۔جن کی برقی رو دماغ کو متاثر کرے گی اور اپنے دل کی بات سننے کے لئے ہر دماغ تیار رہتا ہے بلکہ دل کو دماغ پر ایک فوقیت حاصل ہے۔جس کے نتیجہ میں بعض دفعہ نقصان بھی ہوتے ہیں مگر اکثر اوقات اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ اس سے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔جتنے بھی دوست احمدی ہوتے ہیں اور مجھ سے ملتے ہیں۔میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیسے احمدی ہوئے ؟ تو بسا اوقات میں نے یہی جواب سنا ہے۔بڑی بھاری اکثریت کا یہ بیان ہوتا ہے کہ ہم فلاں کے حسن اخلاق سے متاثر ہوئے تھے۔ہمارے دفتر میں بیسیوں آدمی کام کرتے ہیں۔ایک وہ بھی ہے جس کا جماعت احمدیہ سے تعلق ہے۔اس کا اٹھنا بیٹھنا ، اس کا رہنا سہنا، اس کی گفتگو کے انداز،اس کے میل جول ،اس کا ایک دوسرے کے ساتھ سلوک بالکل مختلف تھا اور ہم سوچتے تھے کہ یہ کیسا شخص ہے؟ یہ کیا چیز ہے؟ اس کی ذات میں ہم دلچسپی لینے لگے تو دین میں دلچسپی لینا گویا ایک طبعی قدم تھا جو اس کے بعد آنا ہی آنا تھا اور یہ بات جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بھاری اکثریت پر صادق آتی ہے۔جن علاقوں میں کثرت سے جماعت پھیل رہی ہے وہاں بھی حقیقت یہ ہے کہ پہلے نیک شہرت نے جماعت کی عمومی تصویر کو دلکش بنا دیا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ مبلغ گئے ہیں، دلیلیں دی ہیں اور ہزاروں لوگ احمدی ہو گئے ہیں۔ان مبلغین کو یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ جماعت کی ایک عمومی بہت ہی حسین تصویر پچاس یا سوسال کی قربانیوں کے نتیجہ میں اس ملک میں ابھری ہے اور مسلسل لوگ اس تصویر کو دیکھتے تھے اور اچھا محسوس کرتے تھے مگر دیگر عوامل ایسے حائل تھے جن کے نتیجہ میں جرات نہیں ہوتی تھی لیکن دل کے اندر یہ بات موجود تھی کہ یہ اچھے لوگ ہیں۔جتنا مرضی ہم ان کو برا کہیں یا سمجھیں، ہیں یہ اچھے لوگ۔اس کے نتیجہ میں پھر وہ فطرت آمادہ تھی ، مزاج اس کے لئے تیار بیٹھے تھے۔تب جب جانے والے گئے اور ان کو نصیحت کی تو ایسے کانوں نے نصیحت سنی جو پہلے ہی یہ قبول کرنے کا میلان رکھتے تھے۔