خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 562
خطبات طاہر جلد ۱۲ 562 خطبہ جمعہ ۲۳ / جولائی ۱۹۹۳ء میزبانی میں نہیں آسکتا۔اس نیت سے، اس خلوص کے ساتھ ، اس خاص Consciousness کے ساتھ یعنی زندہ احساس کے ساتھ کہ ہم نے یہ کام کرنا ہے۔ہم نے پیار اور محبت کے ایسے نمونے دکھائے ہیں کہ لوگ جن کی یادیں لے کر اپنے اپنے وطنوں کو روانہ ہوں اور مدتوں تک وہ یادیں ان کے دلوں میں مہکتی رہیں اور ان کی یادوں کے لئے حسن کے سامان مہیا کرتی رہیں۔جو شخص اخلاق حسنہ سے حق کوقبول کرتا ہے وہ ہمیشہ خود بھی اخلاق حسنہ کا ہی مظہر رہتا ہے۔لوگ مختلف تلواروں کے کشتے ہوا کرتے ہیں۔ہر تلوار اپنا نشان چھوڑ جایا کرتی ہے اس بات کو آپ خوب یا درکھیں۔اگر کوئی ایک مولوی کے ذریعہ مسلمان ہوگا تو اس کے اندر بھی مولویت ضرور پائی جائے گی۔ہر ہتھیار اپنا ایک نقش چھوڑتا ہے اور بعد میں اگر تحقیق کی ضرورت پڑے تو سائنس دان پہچان جاتے ہیں کہ یہ آرے سے کاٹا گیا ہے یا تیز دھار آلے کا شکار ہوا ہے یا چھنے والی چیز سے مارا گیا ہے یا اور کسی ذریعہ سے مثلاً Conussion یعنی ایسے زخم کا نشانہ بنایا جس میں خون نہیں رستا لیکن ایک جگہ مجتمع ہو جاتا ہے تو آپ بھی ان شکار کرنے والوں میں ہوں جو حسن واحسان کا شکار کھیلنے والے ہیں اور جو محمد مصطفیٰ کی طرح اخلاق کی تلوار سے لوگوں کو ماریں۔ایسے لوگ جو اخلاق کی تلوار سے مارے جاتے ہیں وہ ہمیشہ اخلاق کی ہی تلوار سے لوگوں پر فتح حاصل کیا کرتے ہیں۔جو منطق کی تلوار سے مارے جاتے ہیں وہ پھر دنیا میں منطق لے کر ہی پھرتے ہیں اور ان کو کچھ نصیب نہیں ہوتا۔ہم نے دنیا کے دل فتح کرنے ہیں اور پھر دماغوں کو قابو کرنا ہے۔فتوحات کے دو ہی راستے ہیں، ایک یہ کہ دماغوں کو قابو کریں اور پھر دلوں کو فتح کرنے کی کوشش کریں۔ایک رستہ ہے دلوں کو قابو کرنا اور پھر دماغوں کو فتح کرنا ، جو عظیم قو می تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو عظیم روحانی انقلاب بر پا ہوتے ہیں وہ منطق کے ذریعہ نہیں ہوا کرتے۔وہ دلائل کے ذریعہ نہیں ہوا کرتے۔پہلے دل خدا کے فضل اور احسان کے ساتھ مائل ہوتے ہیں اور قائل ہوتے ہیں اور پھر وہ دل خود اپنے دماغوں پر حاوی ہو جاتے ہیں، اپنے دماغوں کو مجبور کر دیتے ہیں کہ جس فرقے یا مذہب سے تعلق رکھنے پر دلوں نے مجبور کیا ہے اس کو محبت کی آنکھ سے دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ صرف منطق سے تو یہ فتح ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ منطق کے مقابل پر ایسا دماغ جس میں کوئی میلان نہیں ہے وہ ہمیشہ مدافعت کے ساتھ بات کو سنتا ہے۔اس نیت کے ساتھ بات کوسنتا ہے کہ میں نے