خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 558
خطبات طاہر جلد ۱۲ 558 خطبہ جمعہ ۲۳ / جولائی ۱۹۹۳ء کیسے ممکن ہے کہ آپ دوسروں کو وہ نصیحت کریں جس پر خود عمل پیرا نہ ہوں۔کب پکڑ پکڑ کر عورتوں کے چہرے ڈھانپا کرتے تھے ، کب پکڑ پکڑ کر لوگوں کی شلوار میں اونچی کیا کرتے تھے۔یہ محض جہالت کی باتیں ہیں جو بڑی گستاخی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی طرف منسوب کی جارہی ہیں۔ہاتھ سے درست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً ایک گندی نالی ہے۔چند لوگ کام کر رہے ہیں تو آپ اس کو صاف کریں اور اگر نہیں بھی کر رہے تو صرف برانہ منائیں۔اس گند کو اپنے ہاتھ سے اٹھا کر دور کرنے کی کوشش کریں۔جلسہ کے انتظام ہو رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ وہاں ایک جگہ خدمت کرنے والوں کی ضرورت ہے، خرابی پیدا ہو رہی ہے۔اگر آپ دوڑ کر اس موقع پر آگے بڑھ کر اس خدمت میں حصہ نہیں لیتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق ایمان کی اعلیٰ حالت پر قائم نہیں ہیں۔پس وہ خرابیاں مراد ہیں جو معاشرے کی ایسی خرابیاں ہیں جس میں معاشرہ مددطلب کرتا ہے، جس میں انسانی فطرت مطالبہ کرتی ہے کہ آؤ اور شوق سے حصہ لو۔یہ وہ مواقع ہیں جن کا اس حدیث سے تعلق ہے اور ہر ایسے موقع پر خدمت میں آگے بڑھنا اور برائیوں اور خرابیوں کو ان معنوں میں اپنے ہاتھ سے دور کرنا کہ جہاں عرف عام میں یہ بات بداخلاقی اور بدتمیزی نہ ہو غیروں کے معاملہ میں دخل اندازی نہ ہو بلکہ معاشرے کا گویا تقاضا ہے کہ میری مدد کرو۔ایک بیمار اگر سہارے کا محتاج ہے اور دوڑ کر آپ سہارا نہیں دیتے تو آپ اس حدیث کی روح کو نہیں سمجھتے۔جب دوڑ کر سہارا دیتے ہیں تو پھر یہ وہ مداخلت ہے جو بے جا مداخلت نہیں ہے، انسانی فطرت اس کا تقاضا کرتی ہے۔پس اس روح کے ساتھ جلسہ سالانہ میں شرکت کرنی چاہئے۔میں ابھی تک تنقید کرنے والوں کو مخاطب ہوں ، اسی گروہ کو جن کا پہلے ذکر کیا تھا کہ وہ باہر بیٹھ کر تنقید میں کرنے کا تو کوئی حق نہیں رکھتے۔زیادہ سے زیادہ دل میں برا منانے کا حق ہے۔اول روح پر کیوں قائم نہیں ہوتے جو کمزوریاں دیکھتے ہیں ان کو دور کرنے میں مدد کیا کریں منتظمین کی خدمت میں حاضر ہوں۔ان سے کہیں کہ ہم نے یہ بات دیکھی ہے، ہو سکتا ہے آپ کی استطاعت میں نہ ہو۔انتظامی کمزوری کا رکنوں کی کمی کی وجہ سے ہو تو ہم حاضر ہیں ہم سے کام لیں اور خدا کے فضل سے قادیان کے زمانے سے بھی مجھے یہی یاد ہے اور ربوہ میں بھی یہی کہ ہمیشہ جماعت کی