خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 557

خطبات طاہر جلد ۱۲ 557 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء کریں جتنی جلدی کوئی نقص متعلقہ افسر تک پہنچے اتنا ہی بہتر ہے، اتنی جلدی اس کی اصلاح ہوسکتی ہے۔پہلے ایک دفعہ یہ رجحان پیدا ہو گیا تھا کہ یہاں سے واپس جا کر لوگ نہ صرف انتظامیہ کے بلکہ احباب جماعت U۔K کے بھی شکوے شروع کر دیا کرتے تھے اور لمبے لمبے تنقیدی خط آجایا کرتے تھے۔وہ باتیں میں ان تک اصلاح کی نیت سے پہنچاتا تھا مگر مجھے اس سے ہمیشہ دوطرح سے تکلیف پہنچتی تھی۔ایک تو یہ کہ یہ کوئی اچھا کردار نہیں ہے کہ انسان ایک نقص کو دیکھے اور اس کو دل میں پال لے، دور کر سکتا ہو مگر نہ کرے اور باہر جا کر نہ صرف مجھے اطلاع دے کہ وہاں یہ یہ باتیں ہوئیں۔یہ کوئی جلسہ تھا؟ اس میں یہ خرابیاں تھیں بلکہ مجالس میں ان باتوں کو بیان کرتا پھرے۔ایسے شخص کی تنقید اسی طرح کی تنقید ہے جیسے بعض زبانوں کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے۔مقصد صرف یہ ہے کہ دلوں کو کاٹے، چر کے لگائیں اور کوئی بھی اس کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔جب کسی خرابی کو دیکھو تو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کا فرمان یہ ہے کہ ایمان کا اتنا اظہار تو کرو کہ اس کو نا پسند کر ولیکن یہ اول ایمان کی نشانی نہیں ہے۔اول ایمان کی نشانی یہ ہے کہ اگر اس کو ہاتھ سے دور کر سکتے ہو تو دور کرو، اگر زبان سے اس کی اصلاح کر سکتے ہو تو کرو (مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر: ۸۰) سیہ دو باتیں نہ ہوسکیں تو پھر دل میں رکھو پھر پروپیگنڈا کا کوئی حق نہیں ، پھر دل کی تکلیف کو دعاؤں میں بے شک بدل دو اس سے بھی فائدہ پہنچتا ہے لیکن یہ کہ اس دل کو ایک کینہ بنا لو، اس کے نتیجہ میں منتظمین کو تحقیر کا نشانہ بناؤ اور سمجھو کہ خدمت کرنے والے تو بڑے ہی جاہل اور بے وقوف تھے۔ہمیں دکھائی دے رہا تھا کہ یوں ہونا چاہئے اور یوں نہیں ہونا چاہئے۔یہ خفی تکبر ہیں جو ایسے موقعوں پر ظاہر ہو جایا کرتے ہیں مگر بنیادی طور پر متکبر کا رد عمل یہی ہوا کرتا ہے۔جماعت احمد یہ تو متکبرین کی جماعت نہیں ہے۔اس میں تکبر کو کوئی جانہیں ہے۔انکسار کے ساتھ ، محبت اور خلوص کے ساتھ تنقید اس طرح کریں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ہاتھ سے دور کرسکیں تو دور کریں۔بعض جہلا اس کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ مثلاً ایک عورت ہے جو پردہ نہیں کر رہی اس کی چادر زبردستی کھینچ کر اس کے منہ پر ڈال دو یا زبان سے اس کوختی سے کہا کہ تم کیا کر رہی ہو۔خبردار! چہرہ چھپاؤ۔یہ بدتمیزیاں ہیں یہ اس روح کے بالکل منافی اور مخالفانہ بات ہے جو روح حضور اکرم ﷺ کے ارشاد میں ملتی ہے۔آپ مکہ کی گلیوں میں اس طرح تو نہیں چلا کرتے تھے۔بڑی مکروہات دیکھا کرتے تھے ، بہت بری باتوں کو سننا پڑتا تھا۔یہ