خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 556 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 556

خطبات طاہر جلد ۱۲ 556 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء اور اپنی سوچوں اور اپنے اعمال میں اس کو جاری وساری رکھیں تو باقی سارے تفصیلی جھگڑے آسانی سے طے ہو جاتے ہیں اور انتظام نہایت عمدگی سے جاری ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے انتظام میں ہمیشہ برکت پڑتی ہے۔دوسری بات میں جلسے پر آنے والوں سے یہ کہوں گا کہ وہ بھی انتظامی کمزوریوں پر محبت کی نظر ڈالا کریں بخشش کی نظر ڈالیں اگر چہ اصلاح کی نظر بھی ساتھ رہے۔اگر اصلاح کی نظر بخشش کی نظر کے سائے میں آگے بڑھتی ہے تو اس میں تلخی نہیں آتی۔اس میں کاٹنے کا مادہ پیدا نہیں ہوتا ، وہ نظر کسی کو چھتی نہیں ہے لیکن اگر کسی کی نظر میں محبت کا مادہ نہ ہو اور اصلاح کا نہیں بلکہ تنقید کا مادہ ہو اور محبت کے فقدان سے لا ز ماہر نظرمنفی تنقید میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے۔اس کے نتیجہ میں اصلاح تو نہیں ہوتی لیکن دل آزاریاں بہت ہوتی ہیں۔قرآن کریم نے ایسی نظروں کا بھی ذکر فرمایا ہے ایسی زبانوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو محبت پر نہیں بلکہ نفرت پر مبنی ہوتی ہیں اوراس کا نتیجہ سوائے ہلاکت کے اور کچھ بھی نہیں نکلتا۔تو ہم نے تو جو بھی سوچنا ہے، جو بھی محسوس کرنا ہے، اس کے نتیجہ میں ہمارا جو رد عمل ہونا ہے وہ تمام بنی نوع انسان کی اصلاح کی خاطر ہوتا ہے۔اس لئے اپنے انتظام کو اپنا انتظام سمجھ کر بجائے دوسروں کو شرمندہ کرنے کے اس کی کمزوریوں کی شرمندگی خود محسوس کریں۔غیر کی نظر سے تنقید کرنے کی بجائے یوں محسوس کریں جیسے آپ اپنے وجود پر تنقید کر رہے ہیں اور پھر اس کی اصلاح میں حصہ ڈالیں اور ادب کے ساتھ محبت کے ساتھ ان لوگوں کو توجہ دلائیں۔اس روح کے ساتھ توجہ دلائیں جس کا ذکر حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے یوں فرمایا ہے۔الـمـومـن مـراة الـمـومـن ـ (ابو داؤد کتاب الادب حدیث نمبر: ۴۲۷۲) مومن دوسرے مومن کا شیشہ ہوتا ہے۔جب بھی کوئی اسے دیکھے خاموش زبان سے سچائی کے ساتھ اس کی کیفیت بیان کر دیتا ہے مگر طعن و تشنیع نہیں ہوتی۔پس وہ شیشہ جو صاف گو ہولوگ اس کو تو ڑ تو نہیں دیا کرتے نہ وہ کسی کا دل تو ڑتا ہے بلکہ لوگوں کو اور زیادہ پیارا ہوتا ہے لیکن وہی شیشہ اگر دوسروں کو عیوب دکھانے لگ جائے تو ایسے شیشے کو تو لوگ جہنم میں پھینک دیں۔ایک کوڑی کی بھی اس کی قدر نہیں کریں۔پس مومن ایک دوسرے کا بھائی ہے۔اس نظر سے تنقید کریں جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے شیشے کی تمثیل سے ہمیں سمجھائی ہے اور اس میں تا خیر نہ کیا