خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 555
خطبات طاہر جلد ۱۲ 555 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء میں ہرگز میری غلطی نہیں تھی۔اب غلطی ہو یا نہ ہوا اگر مزاج وہی ہو جو میں نے بیان کیا ہے تو انسان بغیر غلطی کے بھی سختی کو پیار اور محبت اور ادب کے ساتھ برداشت کرتا ہے اور ایسی صورت میں اس کو غلطی دکھائی بھی دینے لگتی ہے۔یہ میرا تجربہ ہے وہ لوگ جو یہ تعلق رکھتے ہیں کہ آپ نے کہا ہے تو ٹھیک کہا ہے ہم سے غلطی ہوگئی ان کا یہ تعلق بڑی جلدی ایسے تعلق میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھنے لگ جاتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ آپ نے ٹھیک توجہ دلائی ہے۔یہ مخفی بت ہمارے دل میں موجود تھا۔اب آپ نے بتایا تو دکھائی دینے لگا۔تو یہ ایک ارتقائی اصلاحی رشتہ ہے جو ترقی پذیر رہتا ہے۔ہمیشہ اس کے نتیجہ میں دونوں طرف اصلاح رہتی ہے۔تو منتظمین جو اس موجودہ جلسہ کی کارروائی کوسنبھال رہے ہیں یا آئندہ دوسری جگہوں پر سنبھالیں گے ان سب کو میری یہی نصیحت ہے کہ اچھے انتظام کا یہ مرکزی نقطہ ہے اس کو خوب سمجھیں اور اس پر مضبوطی سے قائم ہو جائیں جو منتظم ہے اس کا فرض ہے کہ اپنے ماتحتوں سے اس طرح محبت اور پیار کا سلوک کرے جس طرح ماں باپ کرتے ہیں مگر جاہل ماں باپ کی طرح نہیں کہ جو غلطیوں سے بھی صرف نظر کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک بچہ بدکنے لگتا ہے، بے راہ رو ہو جاتا ہے، بھٹکنے لگ جاتا ہے۔ایسے ماں باپ کی طرح جن کی محبت کا جوش ان کے اصلاح کے ہاتھ میں روک نہیں بنتا بلکہ اس کو تو ازن عطا کرتا ہے۔محبت کے جوش اور اصلاح کے ہاتھ میں اگر توازن پیدا ہو جائے تو غلطی کے نتیجہ میں اس کو بے وجہ نظر انداز نہیں کیا جاتا مگر اصلاح کی خاطر چونکہ کارروائی کی جاتی ہے اس لئے اس میں دل کا جوش اور غیظ وغضب شامل نہیں ہوتا۔ایسا ہاتھ اگر تھپڑ بھی مارتا ہے تو وہ تھپڑ پہلے اپنے دل پر لگتا ہے اور اس کی تکلیف بعض دفعہ اس سے بہت زیادہ لمبے عرصہ تک تھپڑ مارنے والے کو رہتی ہے بہ نسبت اس کے جس کو یہ تھپڑ پڑا تھا۔ایسی مائیں بھی ہیں، ایسے باپ بھی ہیں جن کو مجبور آیہ کا رروائی کرنی پڑتی ہے اور بعد میں اس دکھ سے تڑپتے ہیں کہ ہم اپنے بچے کو یہ تکلیف پہنچانے پر مجبور ہو گئے۔زندگی کے نظام کی یہ وہ روح ہے جس سے نظام زندہ ہوتا ہے اور ہمارا تعلق ایک زندہ نظام سے ہے، ایک ایسے زندہ نظام سے ہے جس نے ہزاروں سال تک جاری رہنا ہے بلکہ یہ وہ آخری نظام ہے کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی حملے کے بعد پھر اور کوئی نظام دنیا میں جاری نہیں ہو گا۔یہ اسی نظام کے آخرین کا جلوہ ہے جس کے ہم نگران اور خادم بنائے گئے ہیں۔پس لمبی باتوں کی بجائے میں انتظامیہ کو صرف اتنا کہوں گا کہ اس مرکزی روح کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں