خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 547
خطبات طاہر جلد ۱۲ 547 خطبہ جمعہ ۱۶ جولائی ۱۹۹۳ء صلى الله اسلام کے مطالعہ سے حاصل کیا ہے اور آج کے دور میں حضرت مصلح موعودؓ کے دور نے خصوصاً ان باتوں کو خوب کھول کھول کر اور نتھار کر ہمارے سامنے واضح کر دیا ہے۔ پس یا درکھیں کہ آپ کی وحدت خلافت سے وابستہ ہے اور امت واحدہ بنانے کا کام خلافت احمدیہ کے سپرد ہے اور کسی کو نصیب نہیں ہو سکتا میں خدا کی قسم کھا کر اس مسجد میں اعلان کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلام امت واحدہ بنانے کا کام خدا تعالیٰ نے اس دور میں خلافت احمدیہ کے سپرد کر دیا ہے جو اس سے تعلق کاٹے گا وہ امت واحدہ سے اپنا تعلق توڑے گا اس کی کوئی کوشش خواہ نیکی کے نام پر ہی کیوں نہ ہو کبھی کامیاب نہیں ہوگی ۔ پس خدا کے واضح اعجازی نشانوں کے ذریعہ جو بات ثابت ہو چکی ہے اس کو دیکھ کر آپ اپنی آنکھیں بند کر کے کہاں جائیں گے اس سے مضبوطی سے چمٹ جائیں اور اس میں کوئی خطرہ نہیں۔ اس وفا کے اندر آپ کی خدا سے وفا ہے ، حضرت محمد مصطفی ﷺ سے وفا ہے، حضرت مسیح موعود سے وفا ہے کیونکہ خلیفہ اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ آپ سے بہت بڑھ کر اپنے گناہوں کو جانتا ہے، اپنی عاجزی کو جانتا ہے مگر جانتا ہے کہ جس منصب پر وہ فائز کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس منصب میں غیرت رکھتا ہے اس مضمون کو سمجھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر کا مزید عرفان حاصل ہوتا ہے کہ صلى الله اے آنکہ سوئے بدویدی بصد تبر از باغبان بترس که من شاخ مثمرم در نشین فارسی:۱۰۶) کہ اے بیوقوف تو جو میری طرف تبر لے کر حملہ آور ہو رہا ہے، جان لے کہ یہ شاخ جو میری ہے شاخ ہے یہ مثمر ثمر دار ہے اور باغبان اس کو برداشت نہیں کرے گا پس خلافت احمد یہ وہ شاخ مشمرم - وہ مشمر شاخ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے پھل لگانے کے لئے سبز و شاداب کر کے دنیا میں دوبارہ قائم کرنا ہے اس پر اگر آپ بری نیت سے حملہ کریں گے، اس پر اگر آپ بدظنی سے کام لیں گے تو اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے کیونکہ خدا ہے جو اس کی پشت پناہی پر کھڑا ہے اور وہ کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ خلافت کو دوبارہ دنیا سے مٹنے دے یہاں تک کہ وہ اپنے ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل کرلے کہ دنیا میں ایک ہی ہی د دین ہو اور وہ دین اسلام ہو اور توحید ساری دنیا پر چھا جائے اور حضرت محمد مصطفی ﷺ آخری اور دائمی نبی کے طور پر دنیا کو قبول ہو جائیں اللہ کرے۔ ایسا ہی ہو۔ آمین اصلى الله