خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 51

خطبات طاہر جلد ۱۲ 51 خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۹۳ء نقشے بن چکے ہیں حقیقت میں یونائیٹڈ نیشنز کے نام پر جو غیر معمولی غیر تیں دکھائی جارہی ہیں یہ اسلئے ہیں کہ یہ عراق کے نئے نقشے بنا رہے ہیں اور مغربی قو میں بحیثیت سیاسی وحدت کے تمام دنیا کا اپنے آپ کو مالک سمجھتی ہیں اور ملکیت کے اس تصور میں انہوں نے اپنا یہ پیدائشی حق سمجھا ہوا ہے کہ دنیا میں جتنے چاہیں نئے ملک بنائیں اور جتنے چاہیں پرانے ملک مٹائیں ، نئے نقشے بنا ئیں نئی عمارتیں تعمیر کریں یہ ہمارا حق ہے اور کسی اور کو مجال نہیں ہے کہ وہ اس کے مقابل پر احتجاج بھی کرے تو وہ نقشے بنے ہوئے ہیں وہ آہستہ آہستہ ابھرتے جائیں گے اور ظاہر ہوں گے۔اس کے بعد دنیا کی حکومتیں ان کو تسلیم کریں گی بے قوف اسلامی حکومتیں (نعوذ باللہ ) لیکن جو اسلامی کہہ رہی ہیں اور بیوقوف ہیں وہ آگے بڑھ بڑھ کر صاد کریں گی کہ ہاں ہم تسلیم کرتی ہیں ہم یہ نقشہ تسلیم کرتے ہیں اس طرح نئے ملک ابھارے جائیں گے۔یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ ان قوموں کو سوچنا چاہئے کہ الہی تقدیر اپنے طور پر ایک کام کر رہی ہے اور ان چیزوں کے خلاف رد عمل پیدا ہور رہے ہیں اور یہ رد عمل بڑھتے چلے جائیں گے اور نفرتوں کے جو بیج بوئے جار ہے ہیں ان سے نفرتوں کی کھیتی ضرور پکے گی اور کل عالم کا انسان جو پہلے ہی بے چارا مصیبتوں میں مبتلا ہے مزید مصیبتوں میں مبتلا کیا جائے گا یہاں تک کہ یہ طرز عمل جو آج دنیا میں اختیار کی جارہی ہیں اگر ثابت شدہ ہو کہ یہ نا انصافی پر مبنی ہے ، حق اور انصاف پر مبنی نہیں تو اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں دنیا کا امن برباد ہو گا۔کس طرح ہوگا آج ہوگا کل ہوگا یہ باتیں تو ابھی ظاہر ہوں گی لیکن میں یہ ایک ایسا قانون بتارہا ہوں جو سنت اللہ ہے کیونکہ عدل کے بغیر دنیا میں انصاف قائم نہیں ہو سکتا یہ خدا کی سنت ہے جو ہمیشہ سے چلی آرہی ہے کوئی نہیں ہے جو اس سنت کو تبدیل کر سکے زہر کے بیج بوئے جار ہے ہیں، نفرتوں کے بیج بوئے جارہے ہیں۔جاپان میں بھی رد عمل پیدا ہو رہے ہیں جرمنی میں بھی رد عمل پیدا ہور ہے ہیں دوسرے ممالک میں بھی رد عمل پیدا ہور ہے ہیں۔نئی نسلوں کے دلوں سے یہ آواز اُٹھ رہی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے درست نہیں ہے ان کا پروپیگنڈہ میڈیا چاہے اپنی طاقت کی وجہ سے غالب آچکا ہو اور کمزور آوازوں کو اُٹھ کر باہر نکلنے کی اور سنائی دینے کی اجات نہ ہو لیکن دلوں میں تو یہ آواز میں پیدا ہو رہی ہیں اور پھر حالات بدل جاتے ہیں یہ حالات ایسے ہی نہیں رہا کرتے قانون قدرت کے خلاف ایک اور بات یہ ہے کہ دنیا میں ایک طاقت کا نقطہ اکیلا نہیں رہ سکتا یہ انسانی فطرت کے خلاف