خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 542
خطبات طاہر جلد ۱۲ 542 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقره ۱۸۷) کہ اے محمد یہ اعلان کر دے کہ جب میرا بندہ مجھے پکارتا ہے میرے متعلق پوچھتا ہے تو کہہ دے کہ فَانِي قَرِيبٌ میں قریب ہوں أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ یہاں لفظ کہہ دے تو نہیں مگر اس کا مفہوم شامل ہے۔پکار نے والا جب مجھے پکار رہا ہوتا ہے تو میں سن رہا ہوتا ہوں اور میں اس کا جواب دیتا ہوں یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اس وقت محمد رسول ﷺ کو مخاطب کر کے ان سے مانگا کرو۔پس قرآن کریم کی تعلیم تو اتنی واضح ہے کہ اس میں کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔پس ی استفادہ کا بہانہ محض جھوٹ ہے اور اپنے نفس کو اندھیروں میں مستقل طور پر جاگزیں کرنے کا ایک عذر ہے اور خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔حضرت علیؓ سے محبت پھر خلافت سے بڑھ کر رسول اللہ کی برابری پر منتج ہوئی اور برابری سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی برابری تک جا پہنچی اس لئے شرک سے خواہ ادنی حالت میں ہو خواہ نچلے مراتب میں شرک کیوں نہ ہو آپ محفوظ نہیں ہوں گے۔شرک لازماً بچے پیدا کرتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ خفی شرک کھلے کھلے شرک میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے ایک تفسیر صافی ہے جو شیعوں کی تفسیر ہے۔اس میں صفحہ ۴۳۲ پر تفسیر برہان زیر سورۃ حجم میں لکھا ہے کہ۔صلى الله امالی شیخ صدوق ( جو شیعوں کی کوئی حدیث کی کتاب ہے ) حضور نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا۔جب مجھے آسمانوں کی طرف معراج کروائی گئی اور میں اپنے رب کے قریب ہوا میرے اور اس کے درمیان قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی کی منزل آگئی تو آواز آئی کہ اے محمد ! مخلوق میں سے تو کس کو محبوب سمجھتا ہے میں نے کہا ! اے میرے رب ! علی کو کہا پس دیکھ اے محمد ! میں نے اپنی دائیں جانب توجہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ علی بن ابی طالب موجود ہیں یعنی معراج میں آپ سے پہلے ہی حضرت علی بن ابو طالب خدا تعالیٰ کے بائیں ہاتھ بیٹھے ہوئے تھے اور پہلے ہی وہاں موجود تھے۔پھر تذکرۃ الائمہ از حیات القلوب میں لکھا ہے کہ: معراج کی رات حضرت علی کی تصویر حضرت محمد نے سدرۃ المنتہی پر دیکھی اور ملائکہ اس کو سجدہ کر رہے تھے۔یعنی وہ سدرۃ المنتہی جس سے آگے تخلیق کی رسائی نہیں ہے اور خدا کی تو حید اس غیر معمولی شدت کے ساتھ جلوہ دکھاتی ہے کہ وہاں غیر اللہ کا کوئی قدم نہیں پہنچ سکتا خواہ کوئی عاشق صادق ہی کیوں نہ ہو وہ مقام ہے جہاں مخلوق کی آخری حد ہے وہاں انہوں نے دیکھا کہ اس انتہائی