خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 541

خطبات طاہر جلد ۱۲ 541 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء مشکل کے وقت اور تکلیف کے وقت یا علی“ کا نعرہ لگایا جاتا ہے تو اس وقت سب سے بہتر وہ جانتا ہے جو یہ نعرہ لگا رہا ہے کہ محض محبت کا اظہار ہے یا شرک ہے اسی طرح یا عبد القادر جیلانی“ یا پیر دستگیر یا سخی سرور وغیرہ کے نعرے مصیبتوں کے وقت لگتے ہیں۔اگر باہر کی آنکھ سے دیکھیں تو چونکہ ہم خدا نہیں ہیں ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ شرک کے نتیجہ میں ہوا ہے لیکن میں نے جہاں تک رجحانات کا مطالعہ کیا ہے یہ شرک ہی کی مختلف صورتیں ہیں اگر تکلیف کے وقت پہلے خدا یاد نہ آئے اور کوئی اور یاد آئے تو یہ شرک کے علاوہ لاعلمی یا بیوقوفی ہے اور خدا سے دوری کی بھی نشانی ہے شرک ضروری نہیں لیکن بعض صورتوں میں واضح شرک بن جاتا ہے اور میرے نزدیک یہ جو شکلیں ہیں جب پوچھا جائے تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق ہے۔خدا نے ان کو غیر معمولی صفات اور قدرتیں عطا فرمارکھیں ہیں۔ہم ان سے استفادہ کرتے ہیں کیونکہ خدا نے ان کو مقرب کر کے بعض طاقتیں ہمیشہ کے لئے بخش دیں اس لئے جس طرح سورج چاند سے استفادہ کیا جاتا ہے اور شرک نہیں ہے۔یہ بھی کوئی شرک نہیں ہے یہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ سورج چاند کا جو نظام ہے اس سے استفادہ کا ایک ایسا قانون جاری ہے جس سے ہمیں لازماً ان سے براہ راست استفادہ کرنا پڑتا ہے لیکن اگر یہ استفادہ وہیں تک محدود رہ جائے تو پھر یہ دہریت بن جاتی ہے اگر چاند اور سورج کا استفادہ اس سے پر لی طرف خدا کا چہرہ نہ دکھائے اور خدا کے مقابل پر ان چیزوں کو انسان بالکل بے حقیقت اور بے جان اور بے معنی نہ دیکھے تو یہ بھی دہریت اور شرک کی قسمیں بن جاتی ہیں۔پس اگر کسی بزرگ سے استفادہ کرتے وقت یہ خیال دل پر غالب ہو اور قبضہ کرلے کہ میرے اللہ نے جوان کو عطا کیا ہے میرے لئے وسیلہ بنایا ہے اور میں ان سے استفادہ کرتا ہوں تو یہ استفادہ تب جائز ہے اگر قوانین کے مطابق ہو۔قرآن کریم نے اس کے کھلے کھلے قوانین بنائے ہیں اور اسلوب بیان فرمایا ہے،ایک استفادہ یہ ہے کہ جس طرح ساری امت حضرت محمد ﷺ سے وسیلہ ہونے اور شفیع ہونے کا استفادہ کر صلى الله رہی ہے مگر مصیبت کے وقت یہ نہیں کہتی کہ اے محمد تو ہمیں دے۔کبھی کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کبھی کسی خلیفہ راشد نے یہ نہیں کہا اسلام میں نسل در نسل تک کبھی یہ محاورہ آپ نہیں سنیں گے کہ اے محمد میرا بچہ مر رہا ہے تو اسے بچالے اے محمد میری جان نکل رہی ہے تو مجھے نئی زندگی بخش۔ہمیشہ براہ راست خدا کو مخاطب کیا گیا ہے اور قرآن کریم نے کھلم کھلا اسی کی تعلیم دی فرمایا وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي