خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 537
خطبات طاہر جلد ۱۲ 537 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء پس اس خلوص کے ساتھ اس مضمون کو سمجھتے ہوئے اگر آپ دعائیں کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ توحید پر قائم رکھے گا۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ محبت نہ صرف توحید کے منافی نہیں بلکہ توحید کی مؤید ہے اور حضرت اقدس محمدﷺ کے ساتھ جتنی محبت ہو وہ اتنا ہی تو حید کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ جو دعویٰ ہے اسے عقلاً سمجھایا جاسکتا ہے، یہ کوئی فرضی دعویٰ نہیں ہے۔تو حید اور اللہ کے بچے بندوں سے محبت کے درمیان ایک رشتہ ہے اگر کسی انسان سے محبت بڑھے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالی کا پیار اور اس کی عظمت دل میں ترقی کرے تو یہ شرک نہیں ہے، یہ تو حید خالص ہے اگر کسی کا پیار دل میں بڑھے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا تصور مدھم ہوتا ہوا ہلکا ہلکا پیچھے کی طرف سرکنا شروع ہو اور اس انسانی وجود کا تصور نمایاں ابھرتے ہوئے انسان کے دل و دماغ پر قابض ہونے لگے تو یہ خالص شرک ہے اس کا توحید سے کوئی تعلق نہیں۔حضرت اقدس محمدﷺ کی سچی محبت کی نشانی ہے کہ جتنا آپ سے محبت بڑھتی ہے خدا کی عظمت دل میں زیادہ قائم ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ عظمت بعض دفعہ اتنا جوش دکھاتی ہے ایک عارف باللہ کے منہ سے ایک ایسا کلام نکل جاتا ہے جو بظاہر گستاخانہ ہے اور عام نظر سے دیکھیں تو اس سے دل میں صدمہ پہنچتا ہے کہ یہ کیا بات کر رہا ہے لیکن وہ خاص لمحات ہیں جس میں حضرت اقدس محمد اللہ کی محبت نے اس طرح تو حید کا روپ اختیار کر لیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا وجود بھی بیچ میں سے غائب ہوتا نظر آتا ہے یہاں جس شعر کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں وہ یہ ہے۔پیچ در پنجه خدا دارم من چه پروائے مصطفی دارم کہ میرا پنجہ خدا کے پنجہ میں آ گیا ہے اب مجھے مصطفی کی کیا پرواہ ہے جس بزرگ کا یہ شعر ہے ان کے متعلق یہ ظن کرنے کی گنجائش ہی کوئی نہیں کہ وہ نعوذ باللہ من ذلک رسول اللہ یہ کی گستاخی کرنے صلى الله والے تھے۔ہاں اس کا مفہوم یہ دکھائی دیتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی شان کو اپنے رنگ میں یوں بیان کیا کہ محمد ﷺ کی تو عجیب شان ہے کہ میرا پنجہ خدا کے پنجے میں پکڑا گیا ہے،اب مجھے کسی کی بھی ان معنوں میں پرواہ نہیں رہی کہ خدا تو مجھے مل گیا لیکن محمد رسول اللہ کا احسان تو دل سے نہیں نکل سکتا کیونکہ پنجہ پکڑانے والا وجود وہ تھا اگر پنجہ پکڑانے والا وہ وجود بیچ میں نہ ہو تو کوئی پنجہ خدا کے پنجہ میں نہ پکڑا جائے۔پس توحید کا رسالت کی محبت سے بڑا گہرا تعلق ہے اور جہاں رسالت ایسا وجود