خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 50
خطبات طاہر جلد ۱۲ 50 خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۹۳ء میں تجربہ کر کے دیکھا تھا اور بہت کامیاب ہوا تھا۔ احمدی بچے ، عورتیں ، احمدی مرد مگر زیادہ تر احمدی خواتین اور بچیوں نے اس میں حصہ لیا اور انگلستان کی رائے عامہ پر اثر انداز ہو کر دکھایا تو احمدی ہر جگہ یہ کام کر سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ میں جو اور اہم تعلیم آپ کو دیتا ہوں وہ دعا کی تعلیم ہے۔ دعا ہی ہے جو کمزوروں کی آواز میں طاقت پیدا کر سکتی ہے دعا ایک ایسی طاقت ہے جو ایک تنکے کو شہتیر کی طاقت عطا کر سکتی ہے اور دعا ہی سے قطرے سمندر بنا کرتے ہیں۔ آپ کی نصیحت کے قطرے بے کار جائیں گے اور اردگرد کی پیاسی زمین ان کو جذب کر کے ان کا نشان بھی باقی نہیں چھوڑے گی ہاں اگر دعا کی برکت ان کو حاصل ہوئی تو پھر ضرور سمندر بنیں گے ضرور کل عالم کی پیاس بجھانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ پس دعاؤں کے ذریعہ اپنے ہم وطنوں کی بھی مدد کریں گے ظالموں کے ہاتھ روک کر مظلوموں کی بھی مدد کریں اور نصیحت کرتے چلے جائیں تا کہ دنیا میں سچ کا بول بالا ہو اور بالآخر انسان کو عقل آجائے ۔ دنیا جتنی ترقی کر چکی ہے اتنا ہی انسان جاہل اور بے عقلا ہو چکا ہے، بڑا ہی بیوقوف ہے یہ نفرت سے کیسے مزے حاصل کر سکتے ہیں نفرت تو شیطانی کھیل ہے اس کے نتیجہ میں کوئی حقیقی دائمی لذت مل ہی نہیں سکتی ان کو پتا ہی نہیں۔ بش صاحب کا اعلان آیا ہے کہ میں چند دن ہوں دیکھنا میں انتقام لے کر چھوڑوں گا کس بات کا انتقام؟ اگر ظلم کا انتقام لینا ہے تو ساری دنیا ظلم سے بھری بیٹھی ہے پھر امریکہ بیٹھے کیا کر رہے ہو نکلو اور ایک ایک ملک سے انتقام لواب اتنے بڑے ملک کا اتنا عظیم صدر اور کیسی یسی جلا ہلا نہ باتیں کر رہا ہے بیچارے امریکن احمدیوں کو چاہئے کہ اس کا ہاتھ بھی ظلم سے روکیں ، اس کی زبان بھی ظلم سے روکیں ، اس کو سمجھائیں تو سہی کہ ہمارے بھائی ہم پر یہ ظلم نہ کرو۔ دنیا کے سامنے ہمیں ذلیل و رسوا نہ کرو۔ انتقام کیسا کس بنا پر کس برتے پر؟ یہ اسلام کے خلاف عیسائیت کا انتقام ہے یا کسی اور چیز کا ؟ اگر عیسائیت کا انتظام ہے تو پھر عیسی علیہ السلام سے تو انتقام نہ لو آپ نے تو اور تعلیم دی تھی آپ نے تو عالمگیر بخشش کی تعلیم دی تھی ، آپ نے تو یہ تعلیم دی تھی کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی پیش کر دیا کر وہ تمہیں تو چاہئے کہ امریکہ کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر صدام کے سامنے پیش کرو کہ یہ ہے ہمارا انتقام جو ہمارے آقا و مولا نے ہمیں سکھایا ہے بجائے اس کے کہ اس کے حصے بخرے کرنے شروع کر دو اور عملاً یہی ہو رہا ہے۔ دل