خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 527
خطبات طاہر جلد ۱۲ 527 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء دلیل رکھتا ہے۔فرمایا اس کا باقی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ایک شخص جو یہ اقرار کرتا ہے کہ خدا ایک ہے اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلے گا کہ بنی نوع انسان کے نزدیک اسے محترم ہو جانا چاہئے اور اس کا ایک ایسا تشخص ابھرنا چاہئے کہ جس کے نتیجہ میں سب دنیا سمجھے کہ اس پر ہمارا کوئی حق نہیں۔یہ ہماری دسترس سے باہر رہنا چاہئے۔باقی اس کی نیت میں اگر کوئی فتور ہے تو وہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہی اس کی نیت کے مطابق اس کو بدلہ دے گا۔کلمہ توحید پڑھنے کے بعد بندوں کی گرفت سے وہ بہر حال آزاد ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں عدلیہ کی ایک کارروائی میں یہ فیصلہ دیا گیا کہ احمد یوں کو کلمہ پڑھنے کا حق ایسا ہے کہ آرڈینینس ان کو اس حق سے محروم نہیں کرتا۔اس لئے لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھنے کے نتیجہ میں احمد یوں کو سزا نہیں دی جائے گی یعنی یہ ایک ایسا جرم ہے جو وہ کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس جرم کے بعد وہ ہر پکڑ سے آزاد ہو جاتے ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ غیر مبہم اعلان ہے اور ہمیشہ کے لئے یہ اعلان ہے کہ جس شخص نے کلمہ پڑھ لیا اور وہ بھی صرف کلمہ کا پہلا جزو لا اله الا الله تو اس پر پھر تمہارا کوئی حق نہیں رہتا۔اگر تم یہ شک کرتے ہو کہ اس نے بدنیتی سے پڑھا ہے اس لئے اس کی جان، مال اور عزت کو تحفظ نہیں ملنا چاہئے تو اس کا جواب خود حضرت صلى الله اقدس محمد رسول اللہ یہ دے رہے ہیں۔فرماتے ہیں اس کا حساب اب اللہ کے ذمہ ہے۔اس کو جو حفاظت ملی ہے خدا کے نام پر ملی ہے۔اس بنا پر ملی ہے کہ اس نے اقرار کیا ہے کہ اللہ ایک ہے۔اس کے سوا کوئی نہیں اس کے بعد بندوں کی دسترس سے وہ باہر ہو گیا۔رہا یہ کہ اس نے جھوٹ نہ بولا ہوا اور جھوٹ بول کر امن حاصل کرنے کی کوشش نہ کی ہو تو فرمایا کہ اس کا بندوں سے کوئی تعلق نہیں جس کے نام پر اسے محترم قرار دیا گیا ہے۔اس خدا کا پھر کام ہے، اس اللہ کا کام ہے کہ اس کے جھوٹ کی اسے سزا دے۔جہاں تک کلمہ توحید کا تعلق ہے تو آخری نکتہ یہ بیان فرمایا کہ من قال لا اله الا الله وكفر بما يعبد من دون الله حرم ما له و دمه و حسابه على الله تعالى (مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر : ۳۴)