خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 526
خطبات طاہر جلد ۱۲ 526 خطبہ جمعہ ۹ جولائی ۱۹۹۳ء بظاہر ادنی تعلیم ہے یہ انسان کے اعمال کی انتہائی حفاظت کرنے والی تعلیم ہے۔ اس کے تمام دوسرے ادنی پہلوؤں کے اوپر یہ تعلیم نگران بن جاتی ہے۔ صلى الله نے آنحضرت ﷺ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت طارق بن اشیم بیان کرتے ہیں کہ میں رت کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے یہ اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں یہ اور انکار کیا ان کا جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے تو اس کے جان و مال قابلِ احترام ہو جاتے ہیں اور اس کو قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کا باقی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہی اس کی نیت کے مطابق اس کو بدلہ دے گا ۔ (مسلم کتاب الایمان باب الامر يقتال الناس حتى يقولو ا لا اله الا الله) بہر حال کلمہ توحید پڑھنے کے بعد بندوں کی گرفت سے وہ آزاد ہے۔ یہ بہت ہی عظیم الشان تعلیم ہے اور اس کا پہلی اس تعلیم سے گہرا تعلق ہے۔ میں نے بیان کیا تھا کہ دراصل ایمان کے ضمن میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں ۔ وہ توحید ہی کی مختلف شاخیں ہیں جن پر گفتگو فرمائی جا رہی ہے۔ یہاں ایمان کی بحث نہیں بلکہ خالصہ توحید کی بحث ہے اور توحید کی تعریف یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جو انسان توحید پر قائم ہو اس کا جان، مال، اس کی عزت دوسروں پر حرام ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں حرام ہو جاتی ہے۔ میں اگر موحد ہوں تو میری عزت ، میری جان، میرا مال، میری زندگی کی دلچسپی کی چیزیں ان غیروں پر کیسے حرام ہوگئیں جو موحد نہیں ہیں ۔ یہ سوچنے والی بات ہے ورنہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ فضول دعوئی ہے۔ بے معنی دعوئی ہے۔ تم توحید پر ایمان لاتے پھرو۔ ہم پر تمہاری جان مال کیوں حرام ہو گئے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ موحد کے اوپر دوسروں کے جان و مال حرام ہوتے ہیں۔ اس کے بغیر یہ نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا۔ حقیقی توحید پرست وہ ہے جس پر ہر دوسرے انسان کی عزت لوٹنا حرام ، ہر دوسرے انسان کی جان لینا حرام، ہر دوسرے انسان کا مال کھانا حرام ، اس کی ہر چیز کا وہ امین بن جاتا ہے اور یہی امانت کی روح ہے جو متقابل یہ تقاضا کرتی ہے کہ میں جب تمہاری جان، مال ، عزت، آبرو، ہر چیز کا امین بن گیا ہوں اور میری طرف سے تمہاری کسی چیز کو بھی خطرہ نہیں تو پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم مجھے غیر نظر سے دیکھو اور مجھے ٹیڑھی نظر سے دیکھو۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض نتائج اخذ فرمائے ہیں ان پر اگر آپ غور کریں تو ان نتائج کی دلیل آپ کے کلام کے اندر موجود ہے۔ محض دعوی نہیں ہے بلکہ وہ کلام اپنے ساتھ اپنی