خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 520 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 520

خطبات طاہر جلد ۱۲ 520 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء وجود کا رب خدا ہے یہ پہلی دلیل ہے اور جو خود ایک رب کا محتاج ہو اور اس کو رب بننے کا حق ہی کوئی نہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ ہر شخص کسی کو جوابدہ ہے اور اللہ کسی کو جوابدہ نہیں ہے ہر شخص جو عمل کرتا ہے اس عمل کے بارہ میں اس سے پوچھا جائے گا اور اس کا اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى اور کوئی دوسری جان کسی اور جان کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔بعض لوگ مثلاً ہندو یہ کہتے ہیں کہ ہم ہیں تو تو حید کے قائل اور آخری صورت میں ایک ہی خدا ہے مگر یہ جو بت ہیں یہ جن ناموں سے منسوب ہورہے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے ایسے خدا ہیں جو ہمارے بوجھ اٹھا لیں گے۔ہماری طرف سے خدا تعالیٰ کے حضور شفاعت کر کے ہمارے گناہ معاف کروادیں گے اور ان سے تعلق کے نتیجہ میں ہمیں جو فائدہ پہنچتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی سواری پر بوجھ ڈال دیتے ہیں تو یہ ہمارے لئے سواریاں ہی ہیں جو ہمیں خدا تک لے کر جاتی ہیں اور ہمارے بوجھ اٹھا لیتی ہیں۔اس قسم کے فلسفیانہ جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔مجھے خود تجربہ ہے بہت بچپن کے زمانہ میں جبکہ میں سکول میں تھا، ایک دفعہ ڈلہوزی میں میں ایک خوبصورت جگہ سیر کے لئے گیا ہوا تھا اور وہاں ایک ہندو سے تبلیغی گفتگو ہورہی تھی تو اس نے یہی بات مجھ سے کی اور وہی بات ہے جو میرے ذہن پر نقش ہوئی کہ یہ اس طرح شرک کے لئے عذر تراشتے ہیں۔اس نے کہا تمہارے بھی تو خدا تک پہنچانے والے ولی ہوتے ہیں۔یہ جو بت ہیں یہ تو صرف بعض ایسے وجودوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے تعلق کی رعایت کرتے ہوئے اس کو خدا تک لے جاتے ہیں جو ان سے تعلق رکھتا ہے اور یہ شرک نہیں ہے مگر قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرح کھول کر بیان فرمایا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا اور ہر جان اپنے اعمال کی خود ذمہ دار ہے۔یہ جو پہلا اعلان ہے اس کا مشاہدہ قدرت سے تعلق ہے۔صرف مذہبی اعمال کی بات نہیں ہور ہی بلکہ ایک دلیل ہے۔آپ جب کائنات پر غور کرتے ہیں تو ہر چیز جو متحرک ہے اور ہر چیز جو جان رکھتی ہے وہ جو کام کرتی ہے اس کی ذمہ دار بن جاتی ہے۔اگر کوئی جانور غفلت کی حالت میں جنگل میں زندگی بسر کرتا ہے تو شیر کا یا دوسرے جانوروں کا شکار ہو جاتا ہے، کوئی اندھا دھند دوڑتا ہے تو بسا اوقات گڑھوں میں گر پڑتا ہے۔یہ تو بہت معمولی کھلی کھلی مثالیں ہیں لیکن تفصیل کے ساتھ آپ ساری کائنات ، سارے نظام عالم پر غور کریں تو یہی مضمون آپ کو دکھائی دے گا کہ وَلَا تَكْسِبُ