خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد ۱۲ 48 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء ہے۔مگر بیرونی آواز کی نہیں اندرونی آواز کی قیمت ہے، بیرونی آواز کی قیمت تو اس وقت ہوا کرتی ہے جب ایک ملک کمزور ہو جب ملک طاقتور ہو اور اتنا طاقتور ہو جائے کہ طاقت کے نشے میں ہوش گنوا بیٹھے تو باہر کی آواز کی کوئی بھی قدر و قیمت باقی نہیں رہا کرتی ہے پھر اندر کی آواز ہی ہے جو کچھ اثر دکھا سکتی ہے۔پس یہ امر واقعہ ہے کہ باہر کی ہزار آوازوں میں وہ طاقت نہیں جو امریکہ کی ایک آواز میں ہے وہاں کے احمدیوں کو چاہئے کہ سارے ملک میں مہم شروع کر دیں۔اور اپنے اہل وطن کو یہ تضاد کھول کر دکھائیں ان کو کہیں کہ تم نے ہمیں بد نام کر دیا ہے عالم میں ہماری ناک کاٹ دی ہے ہمیں غیر قوموں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی توفیق باقی نہیں رہی اس لئے ہم سب ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ورنہ اگر آئندہ ایسی حکومتیں ووٹ لینے کے لئے آئیں گی تو ان کو ووٹ نہیں دیئے جائیں گے۔طاقت ملی تھی، دنیا کے سامنے نیک کام کرنے کی توفیق ملی تھی اور امریکہ کے نام کی عزت بڑھانے کی توفیق ملی تھی ، ایک نیا عالمی نظام واقعةً پیدا کرنے کی توفیق ملی تھی۔یہ ساری توفیقیں ظلم کی بھینٹ چڑھادی گئیں ذاتی تکبر کے نام پر قربان کر دی گئیں کتنا بڑا ظلم ہے۔پس اس ظلم کے خلاف امریکہ کے احمدی کو احتجاج کرنا چاہئے اور اسی طرح ہندوستان کے احمدی مسلمان کو ہندوستان کے ہاتھ ظلم سے روکنے چائیں۔ان کو با قاعدہ ہندوستان کی سطح پر ایک جد و جہد کرنی چاہئے اور میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ انسانی قدریں واقعہ مری نہیں ہوئیں یہ دب جایا کرتی ہیں شرافت کی آواز کا گلا ہمیشہ کے لئے نہیں گھونٹا گیا شرافت کی آواز اندر اندر ضرور بولتی رہتی ہے اندر کے کان سنتے ہیں لیکن باہر آواز نہیں جایا کرتی ایسا ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے کہ شرافت کو تقویت ملے اس کی حوصلہ افزائی ہو وہ آواز جو انسان اندر سے سنتا ہے وہ باہر کے کان بھی سننے لگیں اور اس کے لئے بعض دفعہ قومی حالات کے بدلنے کے نتیجہ میں شرافت کی جرائتیں جاگ جایا کرتی ہیں بعض دفعہ بلکہ اکثر اوقات اگر بار بار نیکی کی تعلیم دی جائے اور اخبارات میں خطبوں کے ذریعہ یا دوسرے مضامین کے ذریعہ یا ریڈیو ٹیلی ویژن پر تو فیق ملے تو اس پر اپنے خیالات کے اظہار کے ذریعہ قوم کی آراء پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جائے۔اہل قوم کے خیالات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جائے تو یہ ذریعہ کامیاب ہوتا ہے قرآن کریم نے چھوٹے چھوٹے نکتے بیان فرمائے ہیں جو حیرت انگیز طور پر وزن رکھنے والے ہیں