خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 514
خطبات طاہر جلد ۱۲ 514 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء عليه الصلوة والسلام کی جو تحریر پیش کی گئی تھی وہ یہ ہے۔” ہماری جماعت کی ترقی بھی تدریجی اور گزرع (افت: ۳۰) (کھیتی کی طرح) ہوگی اور وہ مقاصد اور مطالب اس پیج کی طرح ہیں جو زمین میں بویا جاتا ہے اور مراتب اور مقاصد عالیہ جن پر اللہ تعالیٰ اس کو پہنچانا چاہتا ہے ابھی بہت دور ہیں۔وہ حاصل نہیں ہو سکتے جب تک وہ خصوصیت پیدا نہ ہو جو اس سلسلہ کے قیام سے خدا کا منشا ہے تو حید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو ( یہ وہ آخری جملہ ہے جس کے چار اجزاء کو ایک ایک کر کے میں انشاء اللہ تعالیٰ خطبات میں بیان کروں گا پہلا جزیہ ہے توحید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو دوسرا ) تبتل الی اللہ ایک خاص رنگ کا ہو ( تیسرے) ذکر الہی میں خاص رنگ ہو (اور چوتھے ) حقوق اخوان میں خاص رنگ ہو۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ صفحه ۵ پر چه ۷ را گست ۱۹۰۲ء) اس کا پہلا جز کہ توحید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو آج کے خطبہ کا موضوع ہے۔آج خدا تعالیٰ کے فضل سے مجلس خدام الاحمدیہ یو کے کا سالانہ اجتماع بھی شروع ہو رہا ہے اور ان کی طرف سے بھی یہ پر زور اصرار ہے کہ اس خطبہ میں ان کے نام بھی افتتاحیہ کے رنگ میں ایک پیغام ہو اسی طرح جماعت احمد یہ سوئٹزرلینڈ کا جلسہ سالانہ آج سے زیورک میں شروع ہو رہا ہے۔امیر صاحب سوئٹزر لینڈ نے خطبہ جمعہ میں جماعت سوئٹزر لینڈ کو یا درکھنے کی درخواست کی ہے۔یہ دونوں مقامات جن میں ایک جگہ اجتماع اور ایک جگہ جلسہ سالانہ ہورہا ہے اس وقت شرک کا گڑھ بنے ہوئے ہیں اگر چہ شرک بھی بظاہر نا پید ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور دہریت میں بدل گیا ہے اور ان علاقوں میں بھاری تعداد نو جوانوں کی اور نئی نسل سے تعلق رکھنے والوں کی عملاً دہر یہ ہو چکی ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دہریت شرک ہی کی پیداوار ہے۔شرک جب اپنے بدنتائج کو کھل کر ظاہر کرتا ہے تو جو کڑوے پھل شرک کو لگتے ہیں ان میں ایک سب سے بڑا کڑوا پھل دہریت ہے کیونکہ شرک اپنی ذات میں اس لائق نہیں کہ اس پر ایمان رکھا جائے جو ایمان بھی شرک کی ملونی رکھتا ہے وہ لازماً بودا ایمان ہے اور جوں جوں قومیں اس شرک کے پہلو پر غور کرتی ہیں طبعا وہ اس سے متنفر ہوتی چلی جاتی ہیں اور اس کے