خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 506

خطبات طاہر جلد ۱۲ 506 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۳ء زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کروں کہ قاری کو کچھ نہ کچھ تو اس کے حسن کا بھی اندازہ ہو کہ یہ ہے کیا کلام۔اس لئے اگر اصل مضمون سے میں ذرا سا ہٹ جاؤں تو غلط مضمون تو بیان نہیں کروں گا لیکن لفظاً لفظ ساتھ نہیں چل سکوں گا۔یہ معذرت کرتے ہوئے میں یہ کوشش کرتا ہوں کہ انگریزی دان طبقہ یہ دیکھ سکے کہ قرآن کریم کی اصل زبان میں کتنی عظمت ہے۔کتنا عظیم الشان کلام ہے جو کیسا دل پر اثر کرتا ہے۔اس پہلو سے انہوں نے جو ترجمہ کیا ہے اس پر سب سے پہلے مجھے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مطلع کیا تھا۔جب میں ۱۹۷۸ء میں انگلستان آیا تو مجھے یاد نہیں کہ پہلا انہوں نے مجھے تحفہ دیا تھا کہ ان کے ذکر پر میں نے خود خریدا تھا مگر واقعہ ترجمہ کے بعض حصے ایسے ہیں جس سے قرآن کریم کی زبان کی اس حد تک خدمت ضرور ہوئی ہے کہ زبان کے اثر کو منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اردو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام اتنا پر اثر ہے اور اتنی گہری تأثیر رکھتا ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک شعر دل کی کایا پلٹ دیتا ہے، بعض دفعہ عبارت کا ایک ٹکڑا انسان کے اوپر ایسا وجد طاری کر دیتا ہے کہ اس کی زندگی میں ایک روحانی انقلاب بر پا ہو سکتا ہے مگر اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ پڑھ کے دیکھ لیں اس کا عشر عشیر بھی اثر نہیں ہے۔تو ہمارے نومسلم احمدی بھائیوں کو کیوں اس سے محروم رکھا جائے، ہرگز نہیں رکھنا چاہئے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ عالمی وحدت اور عالمی بھائی چارہ پیدا کرنے میں زبانیں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا کرتی ہیں۔اگر ناروے میں احمدی بچے نارویجین سیکھیں اور ان کے ساتھ نارویجین کے لحاظ سے پجہتی پیدا کر لیں۔ہم آہنگی پیدا کر لیں تو ایک جگہ جماعت احمدیہ اور ناروے کے درمیان اتحاد ہو جائے گا اگر نائیجیریا میں ، یورو با زبان میں یہ اتحاد قائم ہو جائے تو وہاں اتحاد ہو جائے گا۔مگر عالمی وحدت تو پیدا نہیں ہوگی۔چین میں جو اتحاد ہوگا تو وہ چین تک محدود رہے گا، اگر جاپان میں ہوگا تو جاپان تک محدود رہے گا۔عالمی وحدت کے لئے کسی ایسی زبان کا رشتہ ہونا ضروری ہے جو ایک وسیع تر برادری کے رشتے میں قوموں کو منسلک کر سکے اور اس پہلو سے یہ دوزبانیں ہیں جنہوں نے لازماً اپنا کردار ادا کرنا ہے اول عربی اور اس کی اہمیت پر جتنا زور دیں اتنا ہی کم ہے اور دوسرے اردو زبان کیونکہ اردو زبان میں عربی ہی کے مضامین کو ایک عظیم الشان اور ایک نئی شان کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس نظر سے محمد رسول ﷺ کودیکھا ہے اس کو اردو میں بیان فرمایا ہے اور اس نظر سے دیکھے بغیر وہ حسن کامل طور پر