خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 500

خطبات طاہر جلد ۱۲ 500 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء ہر دفعہ ان کو ئی لذت محسوس ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام کے کلام میں بالعموم زندگی کی یہ ایک خاصیت ہے جسے جو لوگ جانتے ہیں وہ گواہی دیں گے کہ وہ کلام اپنی زندگی کے اعتبار سے دوسرے کلام سے الگ پہچانا جاتا ہے۔وہ کبھی مر نہیں سکتا، اتنا نمایاں فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو خلفاء کے کلام پر بھی ایک نمایاں شان اور نمایاں برتری حاصل ہے اور ممکن ہی نہیں ہے کہ ویسا کلام کوئی اور انسان اپنی طرف سے بنا سکے۔باوجود اس کے کہ وہ الہامی کلام نہیں لیکن وہ شخص جس کی زندگی الہام کی روشنی میں پل رہی ہو جس کا تمام تر سفر الہام کی روشنی میں ہو اس کی زبان پر لازماً الہام کا اثر پڑتا ہے اور اس کی روشنی سے اس کی زبان کو ایک زندگی ملتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان اور آپ کے کلام کی جو زندگی ہے اس کا براہ راست الہام سے تعلق ہے اور عربی زبان تو سکھائی ہی الہام کے ذریعہ گئی ہے اور قرآن کریم تو سراسر سرتا پا الہامی زبان ہے اس لئے قرآن کریم کے متعلق اگر ہمیں کہیں یہ احساس ہو کہ سننے سے مزہ نہیں آیا یا طبیعت میں وہ ولولہ پیدا نہیں ہوا جو ہونا چاہئے تو قصور آپ کا ہو گا۔اپنی بیماری تلاش کریں، اپنے اندر کمزوری ڈھونڈیں جس کی وجہ سے آپ پر اثر نہیں پڑا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کا کلام مسلسل اول سے آخر تک ایک زندہ کلام ہے جو کبھی بھی مر نہیں سکتا اور ہمیشہ زندگی بخشتا ہے۔پس جو بھی پروگرام بنائیں یا جیسا کہ میں نے مشورہ دیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روز مرہ جو جو آیات جماعت میں تلاوت کی جاتی ہیں جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے وقت سے بالخصوص مشہور عام چلی آرہی ہیں اور جماعت نے آپ ہی کی تلاوت سے رنگ پکڑ کر ان آیات یا ان سورتوں کو اپنی نمازوں میں استعمال کرنا شروع کیا ہے ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی عربی تعلیم شروع کریں اور اس کے علاوہ بھی اگر با قاعدہ استاد رکھ کر مکن ہویعنی جماعتی انتظام میں استادر کھے جائیں۔تو بچوں کو عربی با قاعدگی سے پڑھائی جائے لکھنی پڑھنی بھی سکھائی جائے اور بولنی اور عام روز مرہ کے محاورہ میں ان کو شناسائی کروائی جائے ، ان کی واقفیت کروائی جائے۔پھر جس میں صلاحیت ہوگی وہ ترقی کر جائے گا۔لیکن اول مقصد یہ ہونا چاہئے کہ بالآخر قرآن کریم با ترجمہ سب کو آجائے۔یہ جو پروگرام ہے یہ ایک سال، یا دو سال یا چند سال کا نہیں ہوسکتا۔اگر کسی کے دماغ میں یہ و ہم ہو کہ ایک قائد اپنے زمانہ قیادت میں جو ۲ یا ۳ سال کا ہو اس میں اس کام کو پورا کر سکتا ہے تو یہ