خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 499
خطبات طاہر جلد ۱۲ 499 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء ہے۔بول چال بھی سکھانی ضروری ہے کیونکہ اگر آپ اپنے مافی الضمیر کو عربی زبان میں بیان نہیں کر سکیں گے تو عرب لوگوں کی احمدیت کی طرف توجہ نہیں ہوگی۔اگر ہم عربی زبان، بول چال سیکھیں تو یہ الگ فائدہ ہے جو اس سے ہمیں حاصل ہو گا لیکن میرا اول زور اس بات پر ہے کہ ہر احمدی بچے میں عربی زبان کو اس طرح سمجھنے کی توفیق ہونی چاہئے کہ جب وہ قرآن مجید پڑھے تو ترجمہ کر کے نہ سوچے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں بلکہ قرآن مجید پڑھتے پڑھتے مضمون خود بخود اس کے ذہن میں داخل ہوں اور دل پر کارفرما ہوں ، دل پر اثر انداز ہور ہے ہوں۔اس پہلو سے ہمیں تدریجی پروگرام بنانے ہوں گے۔مثلاً میں نے ایک دفعہ یہ مشورہ دیا تھا کہ قرآن کریم کی وہ آیات جن کی عموماً جماعت احمدیہ میں تلاوت کی جاتی ہے مثلاً بہت سی ایسی چھوٹی سورتیں ہیں یا منتخب آیات ہیں جن کی میں اپنی نمازوں میں تلاوت کرتا ہوں۔ان کو اگر پہلی منزل بنالیا جائے اور سب تنظیمیں کوشش کریں کہ ان کے حوالے سے عربی زبان سکھائی جائے اور ان کا ترجمہ سکھایا جائے اور ترجمہ سکھاتے سکھاتے کچھ گرائمر بھی بتادی جائے اور عربی کا تعارف بھی اس طرح کروایا جائے کہ بار بار ان آیات کے حوالے سے عربی کی طرف منتقل ہوں اور عربی کے حوالے سے ان آیات کی طرف منتقل ہوں۔تو اس سے ایک فائدہ یہ بھی پہنچے گا کہ جب بھی وہ ان آیات کی تین نمازوں میں تلاوت سنیں گے یا جتنی توفیق ہے اتنی قرآت والی نمازوں میں شامل ہو کر قرآت سنیں گے تو ان کے دل پر براہ راست اثر پڑے گا کیونکہ قرآن کریم کی آیات میں ایک عظیم خوبی یہ ہے کہ اگر آپ روزانہ بھی وہی آیات تلاوت کرتے چلے جائیں تو جب بھی دل ڈال کے انہیں سنیں گے آپ کے دلوں پر نیا اثر پڑے گا۔اگر سرسری طور پر ان کو سن کر آگے گزرجائیں گے تو خواہ آپ کو تر جمعہ آتا بھی ہو آپ کے دل پر کچھ بھی اثر نہیں پڑے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ ترجمہ آتا ہو اور توجہ سے سنیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت چاہے لاکھ دفعہ پڑھی جائے لاکھ دفعہ اپنا اثر پیدا نہ کرے۔یہ کلام کی زندگی کی نشانی ہے، جو کلام زندہ ہو اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس کو بار بار سننے کے باوجود اس میں دلچسپی زندہ رہتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض عبارتیں ایسی ہیں جن کو سینکڑوں مرتبہ احمدی مقررین نے اپنی تقریروں میں استعمال کیا ہے اور سینکڑوں مرتبہ سننے والوں نے ان کو سنا اور