خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 493 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 493

خطبات طاہر جلد ۱۲ 493 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۳ء یہ جملہ جو میں نے کہا ہے مجھے ڈر ہے کہ ان ممالک میں رہنے والے احمدی بچے جنہوں نے یہاں پرورش پائی ہے ان کی اردو اتنی کمزور ہے کہ شاید وہ اس جملے کو سمجھ نہ سکیں اور آج یہی پہلی بات ہے جو میں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔بسا اوقات مجھے احمدی بچوں اور نو جوانوں کے خطوط ملتے ہیں کہ عالمی مواصلاتی سیارے کے ذریعے جو ہمارے رابطے ہوئے ہیں ، خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے ہم میں نئی زندگی پیدا ہورہی ہے نیا ولولہ پیدا ہورہا ہے اور نیکی کا رجحان بڑھ رہا ہے لیکن آپ کی اردو بہت مشکل ہے اور بہت زور لگا کر توجہ سے سنا پڑتا ہے پھر بھی بہت سی باتیں ہیں جو سمجھ نہیں آتیں جو بعد میں ہمیں اپنے ماں باپ یا دوسرے عزیزوں سے بجھنی پڑتی ہیں۔تو جہاں تک اردو کا تعلق ہے ، بول چال کی جوار دو ہوا کرتی ہے وہی میری اردو ہے۔اس میں بعض دفعہ مشکل مطالب کو بیان کرنے میں مجھے جب دقت پیش آتی ہے تو جو لفظ سامنے آئیں انہی کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔تحریر کے وقت تو الفاظ موقع دے دیا کرتے ہیں کہ آدمی اپنی مرضی سے انتخاب کرے، ایک مضمون کو بیان کرنے کے لئے بہت سے امکانات ہوتے ہیں ان امکانات کے ساتھ مختلف الفاظ وابستہ ہوتے ہیں ان باتوں کو بیان کرنے کے لئے مختلف الفاظ استعمال ہو سکتے ہیں اور تحریر کے وقت انسان ٹھہر ٹھہر کر سوچ سوچ کر ایک بات تحریر میں لاتا ہے اور اس کے لئے موقع ہے کہ جس لفظ کو چاہے منتخب کرے اور جس کو چاہے چھوڑ دے ،مگر خطبے اور تقریر کے دوران ایسا ممکن نہیں ہے۔خصوصاً ایسے مقرر کے لئے جس نے بار بار لوگوں کو مخاطب کرنا ہو اور جس کے لئے اتنا وقت بھی نہ ہو کہ وہ نوٹس بھی لکھ سکے، زیادہ سے زیادہ حوالے اکٹھے کر کے میں ان کو ترتیب دے دیتا ہوں ورنہ جو مضامین بیان کئے جاتے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود ذہن میں کھلتے ہیں تو ایسے موقع پر پہلے سے سوچی سمجھی تدبیر کے ذریعے لفظوں کا انتخاب کرنا تو کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے۔دوسرے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ عام بول چال کی اردو ہے اور اگر اس میں کچھ مشکل الفاظ بھی آجاتے ہیں تو احمدی بچوں کو سمجھنے چاہئیں۔خصوصیت۔ان احمدی بچوں کو وہ الفاظ سمجھنے چاہئیں جن کا تعلق اردو بولنے والے ممالک سے ہے۔اس ضمن میں میں خصوصیت سے آپ کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ مذہبی زبانوں میں، یعنی وہ زبانیں جو مذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہوئی ہیں اور کم و بیش سبھی زبانیں مذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہوئی ہیں لیکن وہ جو غیر معمولی طور پر نمایاں حیثیت اختیار کر گئیں ان میں سب سے اونچا مقام