خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد ۱۲ 486 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء کام ہے وہ تو بہت بڑا ہے اس کے مقابل یہ گنتی قابل فخر تو نہیں قابل شرم ہونی چاہئے اس لئے حیرت انگیز نئی تبدیلیاں پیدا کریں، حیرت انگیز نئے منصوبے بنائیں، حیرت انگیز طریق پر کامل اخلاص کے ساتھ اور حکومت کے ساتھ ، مسلسل محنت کے ساتھ مسلسل نظر رکھتے ہوئے ان منصوبوں پر عملدرآمد کریں تب ہم کہہ سکیں گے کہ امریکہ کے مستقبل کے لئے کوئی نیک آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے ہیں۔اگر آپ نے یہ کام نہ کئے تو ان کے بغیر آپ کی مالی قربانیاں آپ کو بچا نہیں سکیں گی ، آپ کی اولا دیں آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گی ، یہ معاشرہ بڑا ز ہر یلا اور بڑا طاقتور معاشرہ ہے جس نے بڑی بڑی قوموں کو اپنے اندر جذب کر کے فنا کر کے رکھ دیا ہے۔ان کی نہ دنیا ر ہنے دی ہے، نہ ان کا دین رہنے دیا ہے۔ان کی تاریخیں مٹا ڈالی ہیں۔پس کلچر اور معاشرے کے نام پر اسلام پر جو حملے ہو رہے ہیں اس کے مقابلے کے لئے پوری بیدار مغزی کے ساتھ آنکھیں کھول کر خود تیار ہوں۔اپنی آئندہ نسلوں کو تیار کریں اور تیزی کے ساتھ اپنی تعداد بڑھائیں کیونکہ کلچر کے حملوں کے مقابل پر معمولی تعداد کے لوگوں کے لئے بچنے کے امکانات بہت کم ہوا کرتے ہیں۔پھیلنے والے بچا کرتے ہیں، بڑھنے اور نشو و نما پانے والے بچا کرتے ہیں۔وہ درخت جو کو نہیں نکالتا ہے اس پر خزاں حملہ نہیں کر سکتی۔جس کی کونپلیں نکلنی بند ہو جائیں وہ خزاں کا شکار ہو جاتا ہے۔پس حقیقت میں بیماری اندر سے ہے جو باہر سے دکھائی دیتی ہے۔بہار بھی درختوں کے اندر سے پیدا ہوتی ہے اور خزاں بھی ان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔پس اپنے اندر بہار پیدا کریں۔وہ بن جائیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ حق پر شار ہوویں مولا کے یار ہوویں با برگ و بار ہو دیں اک سے ہزار ہوویں (در نشین: صفحہ ۳۸) ایسے بنیں گے تو آپ بھی زندہ رہیں گے اور امریکہ کی بقاء کے لئے بھی آپ ہی سامان پیدا کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے۔پیشتر اس سے کہ میں اس پیغام کوختم کروں میں مختصراً آپ کو ایک اور قوم کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جس کا ایک معمولی حصہ امریکہ میں پناہ گزیں ہوا ہے اور وہ ہمارے مظلوم مسلمان بوسنین بھائی ہیں۔آج کی عصر حاضر کی تاریخ میں کوئی قوم ایسی نہیں جس پر ایسا ظلم کیا گیا ہو جیسا بوسنین پر ظلم